أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ رَجُلا مِنْ بَنِي عَبْدِ الأَشْهَلِ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَلَمَّا قَدِمَ سَأَلَهُ أَبْعِرَةً مِنَ الصَّدَقَةِ، قَالَ: فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى عُرِفَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ، وَكَانَ مِمَّا يُعْرَفُ بِهِ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ أَنْ يَحْمَرَّ عَيْنَاهُ، ثُمَّ قَالَ: «الرَّجُلُ يَسْأَلُنِي مَا لا يَصْلُحُ لِي، وَلا لَهُ، فَإِنْ مَنَعْتُهُ كَرِهْتُ الْمَنْعَ، وَإِنْ أَعْطَيْتُهُ أَعْطَيْتُهُ مَا لا يَصْلُحُ لِي، وَلا لَهُ» ، فَقَالَ الرَّجُلُ: لا أَسْأَلُكَ مِنْهَا شَيْئًا أَبَدًا.
قَالَ مُحَمَّدٌ: لا يَنْبَغِي أَنْ يُعْطَى مِنَ الصَّدَقَةِ غَنِيًّا، وَإِنَّمَا نَرَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَلِكَ، لأَنَّ الرَّجُلَ كَانَ غَنِيًّا، وَلَوْ كَانَ فَقِيرًا لأَعْطَاهُ مِنْهَا
عبداللہ کہتے ہیں کہ میرے والد ابوبکر نے خبر دی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قبیلہ عبد الاشہل کے ایک آدمی کو صدقات کا عامل مقرر فرمایا۔ جب وہ واپس آیا تو اس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے صدقہ کے کچھ اونٹ مانگے۔ ابوبکر کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرہ مبارک میں غصہ کے آثار ظاہر ہوئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مبارک چہرہ پر غصہ کی علامت یہ ہوتی تھی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آنکھوں میں سرخی آجاتی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ اس شخص نے مجھ سے وہ سوال کیا۔ جو نہ میرے لیے جائز ہے نہ اس کے لئے۔ اگر میں اسے نہیں دیتا ہوں تو نہ دینا مجھے ناگوار گزرتا ہے۔ اور اگر دیتا ہوں تو ایسی چیز دیتا ہوں جو نہ اس کے لیے جائز ہے اور نہ میرے لیے مناسب ہے۔ اس شخص نے عرض کیا میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کبہی ایسی جیز نا مانگوں گا اس روایت کو ( باب ما یکرہ من الصدقہ میں ذکر کیا گیا)
یعفہ : عفت عنایت کرتے ہیں۔ یستغن : غین ظاہر کرتا ہے۔ یتصبر : بتکلف اپنے کو صبر پر ضمادہ کرنا
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ صدقہ کے مال سے مالدار کو دینا روا نہیں ہے۔ ہمارے نزدیک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ اس لیے فرمایا کہ وہ آدمی مال دار تھا اگر وہ تنگ دست ہوتا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو ضرور مرحمت فرماتے