أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ مَنْ سَمِعَ عَائِشَةَ، تَقُولُ: سَمِعْتُ صَوْتَ أُنَاسٍ يَلْعَبُونَ مِنَ الْحَبَشِ، وَغَيْرِهِمْ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتُحِبِّينَ أَنْ تَرَيْ لَعِبَهُمْ؟ قَالَتْ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَتْ: فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءُوا، وَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ النَّاسِ، فَوَضَعَ كَفَّهُ عَلَى الْبَابِ، وَمَدَّ يَدَهُ، وَوَضَعْتُ ذَقَنِي عَلَى يَدِهِ، فَجَعَلُوا يَلْعَبُونَ وَأَنَا أَنْظُرُ، قَالَتْ: فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: حَسْبُكِ، قَالَتْ: وَأَسْكُتُ مَرَّتَيْنِ، أَوْ ثَلاثًا، ثُمَّ قَالَ لِي: حَسْبُكِ، قُلْتُ: نَعَمْ.
فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ فَانْصَرَفُوا "
ابو النضر نے ایک شخص سے بیان کیا جس نے حضرت عائشہ (رض) عنہا کو فرماتے سنا۔ کہ میں نے عاشورہ کے دن حبش وغیرہ کے لگوں کے کھیل کی آواز سنی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ کیا تم اس کھیل کو دیکھنا چاہتی ہو ؟ میں نے ہاں میں جواب دیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں بلوایا وہ آگئے۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کے درمیان کھڑے ہوگئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی ہتھیلی مبارک دروازہ پر رکھی اور دست اقدس دراز کرلیا۔ میں نے اپنی ٹھوڑی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دست اقدس پر رکھی۔ چنانچہ وہ لوگ کھیلنے لگے اور میں دیکھتی رہی۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا تمہیں کافی ہوگیا۔ کیا کافی ہوگیا۔ دو یا تین مرتبہ دریافت کرنے پر میں خاموش رہی پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے استفسار فرمایا۔ تمہیں کافی ہوگیا۔ میں نے ہاں میں جواب دیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اشارہ کیا تو وہ واپس پلٹ گئے۔