أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، «أَنَّهُ كَانَ يُكَبِّرُ فِي النِّدَاءِ ثَلاثًا وَيَتَشَهَّدُ ثَلاثًا، وَكَانَ أَحْيَانًا إِذَا قَالَ حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ , قَالَ عَلَى إِثْرِهَا حَيَّ عَلَى خَيْرِ الْعَمَلِ» .
قَالَ مُحَمَّدٌ: الصَّلاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ يَكْوُنُ ذَلِكَ فِي نِدَاءِ الصُّبْحِ بَعْدَ الْفَرَاغِ مِنَ النِّدَاءِ، وَلا يَجِبُ أَنْ يُزَادَ فِي النِّدَاءِ مَا لَمْ يَكُنْ مِنْهُ
نافع بیان کرتے ہیں کہ ابن عمر (رض) اذان میں اللہ اکبر تین بار اور اشہد ان لا الہ الا اللہ تین بار کہتے اور کبھی حی علي الفلاح کہہ لینے بعد حی علی خیر العمل کہتے۔
قول محمد (رح) یہ ہے کہ الصلوۃ خیر من النوم کا کلمہ صبح کی اذان میں اذان سے فارغ ہو کر کہنا چاہیے۔ اس لیے کہ اذن میں کوئی ایسا کلمہ جو اذان میں نہ ہو وہ اس میں بڑھانا پسندیدہ بات نہیں ہے۔