أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، حَدَّثَهُ هَذِهِ الأَحَادِيثَ الأَرْبَعَةَ، قَالَ أَنَسٌ: رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ قَدْ رَقَّعَ بَيْنَ كَتِفَيْهِ بِرِقَاعٍ ثَلاثٍ، لَبَّدَ بَعْضَهَا فَوْقَ بَعْضٍ، وَقَالَ أَنَسٌ: وَقَدْ رَأَيْتُ يُطْرَحُ لَهُ صَاعُ تَمْرٍ فَيَأْكُلُهُ حَتَّى يَأْكُلَ حَشَفَهُ
قَالَ أَنَسٌ: وَسَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمًا، وَخَرَجْتُ مَعَهُ حَتَّى دَخَلَ حَائِطًا، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: وَبَيْنِي وَبَيْنَهُ جِدَارٌ، وَهُوَ فِي جَوْفِ الْحَائِطِ: عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ، بَخٍ بَخٍ، وَاللَّهِ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ لَتَتَّقِيَنَّ اللَّهَ، أَوْ لَيُعَذِّبَنَّكَ
قَالَ أَنَسٌ: وَسَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ رَجُلٌ، فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلامَ، ثُمَّ سَأَلَ عُمَرُ الرَّجُلَ: كَيْفَ أَنْتَ؟ قَالَ الرَّجُلُ: أَحْمَدُ اللَّهَ إِلَيْكَ، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَذِهِ أَرَدْتُ مِنْكَ
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ (رح) نے بیان کیا کہ انس بن مالک (رض) نے چار باتیں بیان فرمائیں۔ نمبر۔ جن دنوں عمر (رض) اللہ امیر المؤمنین تھے میں نے دیکھا کہ ان کے مونڈھوں کے درمامن ایک دوسرے کے اوپر تلے تین پیوند لگے ہوئے تھے۔ نمبر ٢۔ میں نے عمر (رض) کو دیکھا کہ ان کٍ امنے ایک صاع کھجوریں رکھ دی جاتیں تو وہ کھالیتے۔ یہاں تک کہ جو ردی ہوتیں وہ بھی کھالیتے۔ نمبر ٣ ایک دن عمر (رض) کے ساتھ میں نکلا یہاں تک کہ وہ ایک باغ میں داخل ہوگئے وہ باغ کے اندر تھے میرے اور ان کے درمیان صرف دیوار حائل تھی۔ میں نے سنا کہ وہ ( اپنے کو مخاطب کرکے) کہہ رہے تھے۔ اے امیر المؤمنین عمر بن خطاب ! اللہ کی قسم ! اے خطاب کے بیٹے ! اللہ تعالیٰ سے ڈر ورنہ وہ تجھے عذاب میں مبتلا کردے گا۔ نمبر ٤۔ ایک شخص نے ان کو سلام کیا۔ آپ نے سلام کا جواب دیا اور دریافت کیا تمہارا کیا حال ہے ؟ اس نے جواب دیا۔ میں آپ کے سامنے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتا ہوں۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا۔ میں تم سے یہی چاہتا تھا۔