أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْكَعْبِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، جَائِزَتُهُ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ، وَالضِّيَافَةُ ثَلاثَةُ أَيَّامٍ، فَمَا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ، وَلا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَثْوِيَ عِنْدَهُ حَتَّى يُحْرِجَهُ»
سعید مقبری نے ابو شریح کعبی سے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ مہمان کی خاطر مدارات ایک دن رات کرے اور مہمانداری تین دن رات ہے۔ اس کے بعد صدقہ ہے۔ اور مہمان کے لیے جائز نہیں کہ میزبان کے پاس اتنے دن ٹھہرا رہے یہاں تک کہ اس کو تن کی میں مبتلا کردے۔