أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنْ عَطَسَ فَشَمِّتْهُ، ثُمَّ إِنْ عَطَسَ فَشَمِّتْهُ، ثُمَّ إِنْ عَطَسَ فَشَمِّتْهُ، ثُمَّ إِنْ عَطَسَ، فَقُلْ لَهُ: إِنَّكَ مَضْنُوكٌ ".
قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ: لا أَدْرِي أَبَعْدَ الثَّالِثَةِ، أَوِ الرَّابِعَةِ.
قَالَ مُحَمَّدٌ: إِذَا عَطَسَ فَشَمِّتْهُ، ثُمَّ إِنْ عَطَسَ فَشَمِّتْهُ، فَإِنْ لَمْ تُشَمِّتْهُ حَتَّى يَعْطُسَ مَرَّتَيْنِ، أَوْ ثَلاثًا أَجْزَاكَ أَنْ تُشَمِّتَهُ مَرَّةً وَاحِدَةً
عبداللہ بن ابوبکر بن حزم نے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ کہ جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو وہ اس کا جواب دے اگر پھر دوبارہ اس کو چھینک آئے تو بہی اس کا جوب دے پھر اگر اس کو چھینک يئے تو اس کو جواب دے اگر چوتھی مرتبہ چھینک آئے تو کہہ دے تمہیں زکام ہوگیا ہے۔
عبداللہ کہتے ہیں مجھے یاید نہیں کہ آپ نے تیسری مرتبہ یا چوتھی خمرتبہ کے بعد فرمایا ( کہ تمہیں زکام ہے)
( اس روایت کو امام مالک باب التشمیت فی العطاس میں ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو اس کا جواب دے پھر چھینک يئے تو اس کو جواب دے پھر اگر اس نے جواب نہیں دیا یہاں تک کہ دو تعینی مرتبہ چھینک آجائے تو اس کا جواب ایک مرتبہ دے دینا کافی ہے۔