أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ عِيسَى بْنَ مَرْيَمَ، عَلَيْهِ السَّلامُ كَانَ يَقُولُ: «لا تُكْثِرُوا الْكَلامَ بِغَيْرِ ذِكْرِ اللَّهِ، فَتَقْسُوَ قُلُوبُكُمْ، فَإِنَّ الْقَلْبَ الْقَاسِيَ بَعِيدٌ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى، وَلَكِنْ لا تَعْلَمُونَ، وَلا تَنْظُرُوا فِي ذُنُوبِ النَّاسِ كَأَنَّكُمْ أَرْبَابٌ، وَانْظُرُوا فِيهَا كَأَنَّكُمْ عَبِيدٌ، فَإِنَّمَا النَّاسُ مُبْتَلًى وَمُعَافًى، فَارْحَمُوا أَهْلَ الْبَلاءِ، وَاحْمَدُوا اللَّهَ تَعَالَى عَلَى الْعَافِيَةِ»
امام مالک فرماتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کرکے سوا زیادہ کلام نہ کیا کرو۔ کیونکہ اس سے دل سخت ہوجاتا ہے۔ اور سخت دل اللہ تعالیٰ رحمت سے دور ہوجاتا ہے۔ لیکن تم نہیں جانتے۔ تم لوگوں کے گناہوں کو اس طرح نہ دیکھو کہ گویا تم خود گناہ کے مرتکب ہو۔ بلکہ اس طرح دیکھو کہ گویا تم غلام ہو۔ پس لوگ گناہوں میں مبتلا ہونے والے اور معاف والے دونوں قسم کے ہوتے ہیں۔ آزمائش میں مبتلاء لوگوں پر رحم کھاؤ۔ اور صحت و عافیت پر اللہ تعالیٰ تعریف کرو۔