أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرَأَيْتَ ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ نَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ فِي نَزْعِهِ ضَعْفٌ، وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ، ثُمَّ قَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا، فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا مِنَ النَّاسِ يَنْزِعُ نَزْعَهُ، حَتَّى ضَرَبَ النَّاسَ بِعَطَنٍ»
اعرج (رح) کہتے ہیں کہ ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ میں نے ابوبکر کو خواب میں دیکھا۔ انھوں نے ایک یا دو ڈول کھینچے۔ اس کھینچنے میں کمزوری کے آثار تھے۔ وفات کے بعد شدید فتنوں کی وجہ سے دین کے حالات میں بظاہر کمزوری نزر ر آئی تھی) اللہ تعالیٰ ابوبکر کی مغفرت فرمائے گا۔ پھر عمر ( (رض) عنہ) ڈول کھینچنے کے لیے کھڑے ہوئے میں نے دیکھا کہ وہ ڈول غرب ( گائے کی کھال کا بڑا ڈول جس کو کئی آدمی کینچ سکتے ہیں) بن گیا۔ میں نے کسی طاقتور جوان کو نہیں دیکھا جو اس طرح قوت سے ان کی طرح ڈول کھینچنے والا ہو۔ یہاں تک کہ اس نے لوگوں کے پانی سینچ کر پر کردیا۔