أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ وَهُوَ ابْنُ صَفِيَّةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ امْرَأَةً سَأَلْتِ النَّبِيَّ (ﷺ) عَنْ غُسْلِهَا مِنَ الْمَحِيضِ، فَأَخْبَرَهَا كَيْفَ تَغْتَسِلُ، ثُمَّ قَالَ: خُذِي فِرْصَةً مِنْ مَسْكٍ فَتَطَهَّرِي بِهَا، قَالَتْ: وَكَيْفَ أَتَطَهَّرُ بِهَا ؟ فَاسْتَتَرَ كَذَا، ثُمَّ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، تَطَهَّرِي بِهَا، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: فَجَذَبْتُ الْمَرْأَةَ، وَقُلْتُ: تَتَّبِعِينَ بِهَا أَثَرَ الدَّمِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : ایک عورت نے نبی اکرم ﷺ سے حیض کے غسل کے متعلق پوچھا، تو آپ ﷺ نے اسے بتایا کہ وہ کیسے غسل کرے، پھر فرمایا : (غسل کے بعد) مشک لگا ہوا (روئی کا) ایک پھاہا لے کر اس سے طہارت حاصل کرو ، (عورت بولی) اس سے کیسے طہارت حاصل کروں ؟ آپ ﷺ نے اس طرح پردہ کرلیا (یعنی شرم سے اپنے منہ پر ہاتھ کی آڑ کرلی) پھر فرمایا : سبحان اللہ ! اس سے پاکی حاصل کرو ، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : تو میں نے عورت کو پکڑ کر کھینچ لیا، اور (چپکے سے اس کے کان میں) کہا : اسے خون کے نشان پر پھیرو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحیض ١٣ (٣١٤) ، ١٤ (٣١٥) ، الاعتصام ٢٤ (٧٣٥٧) ، صحیح مسلم/الحیض ١٣ (٣٣٢) ، (تحفة الأشراف : ١٧٨٥٩) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الطھارة ١٢٢ (٣١٤) ، سنن ابن ماجہ/فیہ ١٢٤ (٦٣٢) ، مسند احمد ٦/١٢٢، سنن الدارمی/الطھارة ٨٤، ٨٠٠، ویاتٔي عند المؤلف برقم : ٤٢٧ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: تاکہ بدبو چلی جائے، یہ حکم استحبابی ہے اگر مشک نہ ملے تو اور خوشبو استعمال کرے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 251