أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ. ح وحَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: صَدَرَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ)، فَلَمَّا كَانَ بِالرَّوْحَاءِ لَقِيَ قَوْمًا، فَقَالَ: مَنْ أَنْتُمْ ؟ قَالُوا: الْمُسْلِمُونَ، قَالُوا: مَنْ أَنْتُمْ ؟ قَالُوا: رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: فَأَخْرَجَتِ امْرَأَةٌ صَبِيًّا مِنَ الْمِحَفَّةِ فَقَالَتْ: أَلِهَذَا حَجٌّ ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَلَكِ أَجْرٌ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ چلے جب روحاء پہنچے تو کچھ لوگوں سے ملے تو آپ نے پوچھا : تم کون لوگ ہو ؟ ان لوگوں نے کہا : ہم مسلمان ہیں، پھر ان لوگوں نے پوچھا : آپ کون ہیں ؟ لوگوں نے بتایا : آپ اللہ کے رسول ہیں ، یہ سن کر ایک عورت نے کجاوے سے ایک بچے کو نکالا، اور پوچھنے لگی : کیا اس کے لیے حج ہے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں اور ثواب تمہیں ملے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٦٤٦ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: مکہ کے راستے میں مدینہ سے ٣٦ میل ( ٧٥ کلومیٹر) کی دوری پر ایک مقام کا نام ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2648