أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرَّمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ أَغَارُ عَلَى اللَّاتِي وَهَبْنَ أَنْفُسَهُنَّ لِلنَّبِيِّ (ﷺ)، فَأَقُولُ: أَوَتَهَبَ الْحُرَّةُ نَفْسَهَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ سورة الأحزاب آية 51، قُلْتُ: وَاللَّهِ مَا أَرَى رَبَّكَ إِلَّا يُسَارِعُ لَكَ فِي هَوَاكَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں ان عورتوں سے شرم کرتی تھی ١ ؎ جو اپنی جان نبی اکرم ﷺ کو ہبہ کردیتی تھیں چناچہ میں کہتی تھی : کیا آزاد عورت اپنی جان (مفت میں) ہبہ کردیتی ہے ؟ پھر اللہ تعالیٰ نے وحی نازل کی ترجي من تشاء منهن وتؤوي إليك من تشاء ان میں سے جسے تو چاہے دور رکھ دے، اور جسے چاہے اپنے پاس رکھ لے (الاحزاب : ٥١) اس وقت میں نے کہا : اللہ کی قسم ! آپ کا رب آپ کی خواہش کو جلد پورا کرتا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/تفسیرسورة الأحزاب ٧ (٤٧٨٨) ، النکاح ٢٩ (٥١١٣) ، صحیح مسلم/الرضاع ١٤ (١٤٦٤) ، (تحفة الأشراف : ١٦٧٩٩) ، مسند احمد (٦/١٥٨) ، ١٣٤، ٢٦١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی ان کیلئے باعث عیب سمجھتی تھی کہ وہ اپنے آپ کو ہبہ کریں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3199