أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: أَنَا فِي الْقَوْمِ إِذْ قَالَتِ امْرَأَةٌ: إِنِّي قَدْ وَهَبْتُ نَفْسِي لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَرَأْ فِيَّ رَأْيَكَ فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: زَوِّجْنِيهَا، فَقَالَ: اذْهَبْ فَاطْلُبْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ، فَذَهَبَ فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا وَلَا خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ: أَمَعَكَ مِنْ سُوَرِ الْقُرْآنِ شَيْءٌ ؟قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَزَوَّجَهُ بِمَا مَعَهُ مِنْ سُوَرِ الْقُرْآنِ.
سہل بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں قوم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے میں ایک عورت نے کہا : اللہ کے رسول ! میں آپ کے لیے اپنے آپ کو ہبہ کرتی ہوں، میرے متعلق آپ کی جیسی رائے ہو کریں، تو ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا (اللہ کے رسول ! ) اس عورت سے میرا نکاح کرا دیجئیے۔ آپ نے فرمایا : جاؤ (بطور مہر) کوئی چیز ڈھونڈھ کرلے آؤ اگرچہ لوہے کی انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو ، تو وہ گیا لیکن کوئی چیز نہ پایا حتیٰ کہ (معمولی چیز) لوہے کی انگوٹھی بھی اسے نہ ملی، آپ ﷺ نے کہا : کیا تمہیں قرآن کی سورتوں میں سے کچھ یا د ہے ؟ اس نے کہا : ہاں، سہل بن سعد (رض) کہتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے اس کا نکاح اس عورت سے قرآن کی ان سورتوں کے عوض کرا دی جو اسے یاد تھیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوکالة ٩ (٢٣١٠) ، فضائل القرآن ٢١ (٥٠٢٩) ، ٢٢ (٥٠٣٠) ، النکاح ١٤ (٥٠٨٧) ، ٣٢ (٥١٢١) ، ٣٥ (٥١٢٦) ، ٣٧ (٥١٣٢) ، ٤٠ (٥١٣٥) ، ٤٤ (٥١٤١) ، ٥٠ (٥١٤٩) ، ٥١ (٥١٥٠) ، اللباس ٤٩ (٥٨٧١) ، صحیح مسلم/النکاح ١٣ (١٤٢٥) ، (تحفة الأشراف : ٤٦٨٩) ، سنن ابی داود/النکاح ٣١ (٢١١١) ، سنن الترمذی/النکاح ٢٣ (١١١٤) ، سنن ابن ماجہ/النکاح ١٧ (١٨٨٩) ، موطا امام مالک/النکاح ٣ (٨) ، مسند احمد ٥/٣٣٠، ویأتی عند المؤلف برقم : ٣٢٨٢ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3200