أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: تَزَوَّجْتُ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ (ﷺ)، فَقَالَ: أَتَزَوَّجْتَ يَا جَابِرُ، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا ؟فَقُلْتُ: ثَيِّبًا، قَالَ: فَهَلَّا بِكْرًا، تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نکاح کیا، اور (اور بیوی کے ساتھ پہلی رات گزارنے کے بعد) نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا تو آپ نے کہا : جابر ! کیا تم نے نکاح کیا ہے ؟ میں نے کہا : ہاں ! آپ نے کہا : کنواری سے (شادی کی ہے) یا بیوہ سے ؟ میں نے کہا : بیوہ سے ، آپ نے فرمایا : کنواری سے کیوں نہ کی کہ تم اس سے کھیلتے وہ تم سے کھیلتی ؟ ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/البیوع ٤٣ (٢٠٩٧) ، الوکالة ٨ (٢٣٠٩) ، الجہاد ١١٣ (٢٩٦٧) ، المغازي ١٨ (٤٠٥٢) ، النکاح ١٠ (٥٠٧٩) ، ١٢١ (٥٢٤٥) ، ١٢٢ (٥٢٤٧) ، النفقات ١٢ (٥٣٦٧) ، الدعوات ٥٣ (٦٣٨٧) ، صحیح مسلم/الرضاع ١٦ (٧١٥) ، سنن الترمذی/النکاح ١٣ (١١٠٠) ، (تحفة الأشراف : ٢٥١٢) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/النکاح ٣ (٢٠٤٨) ، سنن ابن ماجہ/النکاح ٧ (١٨٦٠) ، مسند احمد (٣/٢٩٤، ٣٠٢، ٣١٤، ٣٦٢، ٣٧٤، ٣٧٦) ، سنن الدارمی/النکاح ٣٢ (٢٢٦٢) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3219