أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَهُوَ ابْنُ حَبِيبٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ)، فَقَالَ: يَا جَابِرُ، هَلْ أَصَبْتَ امْرَأَةً بَعْدِي ؟قُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: أَبِكْرًا أَمْ أَيِّمًا ؟قُلْتُ: أَيِّمًا ؟ قَالَ: فَهَلَّا بِكْرًا تُلَاعِبُكَ.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی مجھ سے ملاقات ہوئی تو آپ نے فرمایا : جابر ! کیا تم مجھ سے اس سے پہلے ملنے کے بعد بیوی والے ہوگئے ہو ؟ میں نے کہا : جی ہاں اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : کیا کسی کنواری سے یا بیوہ سے ؟ میں نے کہا : بیوہ سے، آپ نے فرمایا : کنواری سے شادی کیوں نہ کہ جو تمہیں کھیل کھلاتی ؟ ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٢٤٦٥) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3220