أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ رَزِينٍ يُحَدِّثُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ)، فِي الرَّجُلِ تَكُونُ لَهُ الْمَرْأَةُ يُطَلِّقُهَا، ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا رَجُلٌ آخَرُ، فَيُطَلِّقُهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، فَتَرْجِعَ إِلَى زَوْجِهَا الْأَوَّلِ، قَالَ: لَا، حَتَّى تَذُوقَ الْعُسَيْلَةَ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ آدمی کی بیوی ہوتی ہے وہ اسے طلاق دے دیتا ہے، پھر اس سے دوسرا شخص شادی کرلیتا ہے، پھر وہ دوسرا شخص اس سے جماع کیے بغیر طلاق دے دیتا ہے، تو وہ اپنے پہلے شوہر کی طرف لوٹ جانا چاہتی ہے ؟ تو اس کے بارے میں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ عورت ایسا نہیں کرسکتی جب تک کہ اس (دوسرے شوہر) کے شہد کو نہ چکھ لے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/النکاح ٣٢ (١٩٣٣) ، (تحفة الأشراف : ٧٠٨٣) مسند احمد (٢/٨٥) (صحیح بما قبلہ ) وضاحت : ١ ؎: یعنی اس سے جماع نہ کرلے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3414