أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ رَزِينِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْأَحْمَرِيِّ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ (ﷺ) عَنِ الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا، فَيَتَزَوَّجُهَا الرَّجُلُ فَيُغْلِقُ الْبَاب: وَيُرْخِي السِّتْرَ، ثُمَّ يُطَلِّقُهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا ؟ قَالَ: لَا تَحِلُّ لِلْأَوَّلِ، حَتَّى يُجَامِعَهَا الْآخَرُ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا أَوْلَى بِالصَّوَابِ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو اپنی بیوی کو تین طلاقیں (مغلظہ) دے دیتا ہے پھر اس سے دوسرا آدمی نکاح کرلیتا ہے اور (اسے لے کر) دروازہ بند کرلیتا ہے، پردے گرا دیتا ہے، (کہ کوئی اندر نہ آسکے) پھر اس سے جماع کیے بغیر اسے طلاق دے دیتا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا : وہ پہلے والے شوہر کے لیے اس وقت تک حلال نہ ہوگی جب تک اس کا دوسرا شوہر اس سے جماع نہ کرلے ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : یہ حدیث صواب سے قریب تر ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٦٧١٥) ، مسند احمد (٢/٢٥، ٦٢، ٨٥) (صحیح) (اوپر کی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے ) قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3415