أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَمَّتِهِزَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبٍ، عَنْ الْفُرَيْعَةِ بِنْتِ مَالِكٍ،أَنَّ زَوْجَهَا تَكَارَى عُلُوجًا لِيَعْمَلُوا لَهُ، فَقَتَلُوهُ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ (ﷺ)، وَقَالَتْ: إِنِّي لَسْتُ فِي مَسْكَنٍ لَهُ، وَلَا يَجْرِي عَلَيَّ مِنْهُ رِزْقٌ، أَفَأَنْتَقِلُ إِلَى أَهْلِي، وَيَتَامَايَ، وَأَقُومُ عَلَيْهِمْ ؟ قَالَ: افْعَلِي، ثُمَّ قَالَ: كَيْفَ قُلْتِ ؟ فَأَعَادَتْ عَلَيْهِ قَوْلَهَا، قَالَ: اعْتَدِّي حَيْثُ بَلَغَكِ الْخَبَرُ.
فریعہ بنت مالک رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ان کے شوہر نے کچھ غلام اپنے یہاں کام کرانے کے لیے اجرت پر لیے تو انہوں نے انہیں مار ڈالا چناچہ میں نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا اور میں نے یہ بھی کہا کہ میں اپنے شوہر کے کسی مکان میں بھی نہیں ہوں اور میرے شوہر کی طرف سے میرے گزران کا کوئی ذریعہ بھی نہیں ہے تو میں اپنے گھر والوں (یعنی ماں باپ) اور یتیموں کے پاس چلی جاؤں اور ان کی خبرگیری کروں ؟ آپ نے فرمایا : ایسا کرلو ، پھر (تھوڑی دیر بعد) آپ نے فرمایا : کیسے بیان کیا تم نے (ذرا ادھر آؤ تو) ؟ تو میں نے اپنی بات آپ کے سامنے دہرا دی۔ (اس پر) آپ نے فرمایا : جہاں رہتے ہوئے تمہیں اپنے شوہر کے انتقال کی خبر ملی ہے وہیں رہ کر اپنی عدت کے دن بھی پوری کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3529