أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ زَيْنَبَ، عَنْ فُرَيْعَةَ، أَنَّ زَوْجَهَا خَرَجَ فِي طَلَبِ أَعْلَاجٍ لَهُ، فَقُتِلَ بِطَرَفِ الْقَدُّومِ، قَالَتْ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ (ﷺ)، فَذَكَرْتُ لَهُ النُّقْلَةَ إِلَى أَهْلِي، وَذَكَرَتْ لَهُ حَالًا مِنْ حَالِهَا، قَالَتْ: فَرَخَّصَ لِي، فَلَمَّا أَقْبَلْتُ نَادَانِي، فَقَالَ: امْكُثِي فِي أَهْلِكِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ.
فریعہ بنت مالک رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہمارے شوہر اپنے (بھاگے ہوئے کچھ) غلاموں کی تلاش میں نکلے تو وہ قدوم کے علاقے میں قتل کردیئے گئے، چناچہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی اور آپ سے اپنے گھر والوں کے پاس منتقل ہوجانے کی خواہش ظاہر کی اور آپ سے (وہاں رہنے کی صورت میں) اپنے کچھ حالات (اور پریشانیوں) کا ذکر کردیا تو آپ ﷺ نے مجھے (منتقل ہوجانے کی) اجازت دے دی۔ پھر میں جانے لگی تو آپ نے مجھے بلایا اور فرمایا : عدت کی مدت پوری ہونے تک اپنے شوہر کے گھر ہی میں رہو ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٥٥٨ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3530