أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ النُّعْمَانِ، وَحُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَاهُ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّهُ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ (ﷺ) بِالنُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، فَقَالَ: إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلَامًا فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تُنْفِذَهُ أَنْفَذْتُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): أَكُلَّ بَنِيكَ نَحَلْتَهُ، قَالَ: لَا، قَالَ: فَارْدُدْهُ.
بشیر بن سعد رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس (اپنے بیٹے) نعمان بن بشیر کو لے کر آئے اور عرض کیا : میں نے اس بیٹے کو ایک غلام بطور عطیہ دیا ہے، اگر آپ اس عطیہ کے نفاذ کو مناسب سمجھتے ہوں تو میں اسے نافذ کر دوں، آپ نے فرمایا : کیا تم نے اپنے سبھی بیٹوں کو ایسا ہی عطیہ دیا ہے ؟ انہوں نے کہا : نہیں، آپ نے فرمایا : پھر تو تم اسے واپس لے لو ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٧٠٢، (تحفة الأشراف : ٢٠٢٠، ١١٦١٧) ، ویأتي عند المؤلف بأرقام : ٣٧٠٧، ٣٧٠٨، ٣٧١٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3675