أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ. ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حِبَّانُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ زَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ (ﷺ) وَقَالَ مُحَمَّدٌ: أَتَى النَّبِيَّ (ﷺ)، فَقَالَ: إِنِّي تَصَدَّقْتُ عَلَى ابْنِي بِصَدَقَةٍ فَاشْهَدْ، فَقَالَ: هَلْ لَكَ وَلَدٌ غَيْرُهُ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَعْطَيْتَهُمْ كَمَا أَعْطَيْتَهُ، قَالَ: لَا، قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى جَوْرٍ.
عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا : میں نے اپنے بیٹے کو کچھ ہبہ کیا ہے تو آپ اس پر گواہ ہوجائیے۔ آپ نے فرمایا : کیا اس کے علاوہ بھی تمہارے پاس کوئی اور لڑکا ہے ؟ ، انہوں نے کہا : جی ہاں، (ہے) آپ نے فرمایا : کیا تم نے انہیں بھی ایسا ہی دیا ہے جیسے تم نے اسے دیا ہے ؟ اس نے کہا : نہیں۔ آپ نے فرمایا : تو کیا میں ظلم پر گواہی دوں گا ؟ ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٦٥٨٠) (صحیح) (یہ مرسل ہے ” عبداللہ بن عتبہ تابعی ہیں “ مگر اگلی سندوں سے یہ روایت صحیح ہے ) وضاحت : ١ ؎: تمہارا دوسرے بیٹوں کو محروم کر کے ایک کو دینا اور اس پر مجھ سے گواہ بننے کے لیے کہنا گویا یہ مطالبہ کرنا ہے کہ میں اس ظلم و زیادتی کی تائید کروں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3684