أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ فِطْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ صُبَيْحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، يَقُولُ: ذَهَبَ بِي أَبِي إِلَى النَّبِيِّ (ﷺ) يُشْهِدُهُ عَلَى شَيْءٍ أَعْطَانِيهِ فَقَالَ: أَلَكَ وَلَدٌ غَيْرُهُ ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَصَفَّ بِيَدِهِ بِكَفِّهِ أَجْمَعَ كَذَا أَلَا سَوَّيْتَ بَيْنَهُمْ.
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میرے والد مجھے لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس گئے، مجھے ایک چیز دی تھی اس پر آپ ﷺ کو ایک چیز پر گواہ بنانا چاہتے تھے جو انہوں نے مجھے دی تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا : کیا تمہارے اس لڑکے کے علاوہ بھی کوئی اور لڑکا ہے ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ہے، آپ نے اپنا پورا ہاتھ ہتھیلی سمیت ایک دم سیدھا پھیلاتے ہوئے فرمایا : تم نے اس طرح ان کے درمیان برابری کیوں نہ رکھی ١ ؎؟ ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١١٦٣٩) ، مسند احمد (٤/٢٦٨، ٢٧٦) (صحیح الإسناد ) وضاحت : ١ ؎: یعنی جب تمہارے کئی لڑکے ہیں تو لینے دینے میں سب کے ساتھ انصاف و مساوات کا سلوک کیوں نہیں کیا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3685