أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حِبَّانُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ فِطْرٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ، قَالَ: سَمِعْتُالنُّعْمَانَ، يَقُولُ وَهُوَ يَخْطُبُ: انْطَلَقَ بِي أَبِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) يُشْهِدُهُ عَلَى عَطِيَّةٍ أَعْطَانِيهَا، فَقَالَ: هَلْ لَكَ بَنُونَ سِوَاهُ ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: سَوِّ بَيْنَهُمْ.
نعمان رضی الله عنہ نے دوران خطبہ کہا کہ میرے والد مجھے رسول اللہ ﷺ کے پاس لے کر گئے، وہ آپ کو ایک عطیہ پر گواہ بنا رہے تھے تو آپ نے پوچھا : کیا اس کے علاوہ تمہارے اور بھی بیٹے ہیں ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں (اور بھی بیٹے ہیں) تو آپ نے فرمایا : ان کے درمیان انصاف اور برابری کا معاملہ کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3686