أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبْجَرَ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ (ﷺ) مَعَ أَبِي، فَقَالَ: مَنْ هَذَا مَعَكَ ؟، قَالَ: ابْنِي، أَشْهَدُ بِهِ، قَالَ: أَمَا إِنَّكَ لَا تَجْنِي عَلَيْهِ وَلَا يَجْنِي عَلَيْكَ.
ابورمثہ (رض) کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، تو آپ نے فرمایا : یہ تمہارے ساتھ کون ہے ؟ اس نے کہا : یہ میرا بیٹا ہے، میں اس کی گواہی دیتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : تمہارا قصور اس پر نہیں اور اس کا قصور تم پر نہیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الدیات ٢(٤٢٠٨) ، (تحفة الأشراف : ١٢٠٣٧) ، مسند احمد (٤/١٦٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی تم دونوں میں سے کوئی بھی ایک دوسرے کے جرم میں ماخوذ نہیں کیا جائے گا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4832