أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْثَعْلَبَةَ بْنِ زَهْدَمٍ الْيَرْبُوعِيِّ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) يَخْطُبُ فِي أُنَاسٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَؤُلَاءِ بَنُو ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعٍ قَتَلُوا فُلَانًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ (ﷺ)، وَهَتَفَ بِصَوْتِهِ: أَلَا لَا تَجْنِي نَفْسٌ عَلَى الْأُخْرَى.
ثعلبہ بن زہدم یربوعی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ انصار کے کچھ لوگوں کو خطاب کر رہے تھے، لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! یہ بنی ثعلبہ بن یربوع کے بیٹے ہیں، انہوں نے فلاں کو جاہلیت میں قتل کیا تھا، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اور آپ کی آواز بہت بلند تھی : سنو ! کسی جان کا قصور کسی دوسری جان پر نہیں ہوگا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٢٠٧٢) ، مسند احمد (٤/٦٤-٦٥ و ٥/٣٧٧) ، ویأتي عند المؤلف بأرقام : ٤٨٣٧-٤٨٤٢) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4833