أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ خَبَّابٍ، قال: شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) حَرَّ الرَّمْضَاءِ فَلَمْ يُشْكِنَا. قِيلَ لِأَبِي إِسْحَاقَ: فِي تَعْجِيلِهَا ؟ قَالَ: نَعَمْ.
خباب (رض) کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے (تیز دھوپ سے) زمین جلنے کی شکایت کی، تو آپ نے ہماری شکایت کا ازالہ نہیں کیا ١ ؎، راوی ابواسحاق سے پوچھا گیا : (یہ شکایت) اسے جلدی پڑھنے کے سلسلہ میں تھی ؟ انہوں نے کہا ہاں، (اسی سلسلہ میں تھی) ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساجد ٣٣ (٦١٩) ، وقد أخرجہ : (تحفة الأشراف : ٣٥١٣) ، مسند احمد ٥/١٠٨، ١١٠ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی ظہر تاخیر سے پڑھنے کی اجازت نہیں دی، جیسا کہ مسلم کی روایت میں صراحت ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 497