أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، قال: حَدَّثَنِي حَمْزَةُ الْعَائِذِيُّ، قال: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ (ﷺ)إِذَا نَزَلَ مَنْزِلًا لَمْ يَرْتَحِلْ مِنْهُ حَتَّى يُصَلِّيَ الظُّهْرَ، فَقَالَ رَجُلٌ: وَإِنْ كَانَتْ بِنِصْفِ النَّهَارِ ؟ قَالَ: وَإِنْ كَانَتْ بِنِصْفِ النَّهَارِ.
حمزہ عائذی کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک (رض) کو کہتے سنا کہ نبی اکرم ﷺ (ظہر سے پہلے) جب کسی جگہ اترتے ١ ؎ تو جب تک ظہر نہ پڑھ لیتے وہاں سے کوچ نہیں کرتے، اس پر ایک آدمی نے کہا : اگرچہ ٹھیک دوپہر ہوتی ؟ انہوں نے کہا : اگرچہ ٹھیک دوپہر ہوتی ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ٢٧٣ (١٢٠٥) ، (تحفة الأشراف : ٥٥٥) ، مسند احمد ٣/١٢٠، ١٢٩ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی زوال (سورج ڈھلنے) سے پہلے اترتے، جیسا کہ دیگر روایات میں ہے۔ ٢ ؎: مراد زوال کے فوراً بعد ہے، کیونکہ ظہر کا وقت زوال کے بعد شروع ہوتا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 498