أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ يَعْقُوبَ الصَّبِيحِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ مُوسَى يَعْنِي مُحَمَّدًا، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ يَعْلَى، قَالَ: مَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) وَأَنَا مُتَخَلِّقٌ، فَقَالَ: أَيْ يَعْلَى، هَلْ لَكَ امْرَأَةٌ ؟، قُلْتُ: لَا، قَالَ: اذْهَبْ فَاغْسِلْهُ، ثُمَّ اغْسِلْهُ، ثُمَّ اغْسِلْهُ، ثُمَّ لَا تَعُدْ، قَالَ: فَذَهَبْتُ فَغَسَلْتُهُ، ثُمَّ غَسَلْتُهُ، ثُمَّ غَسَلْتُهُ، ثُمَّ لَمْ أَعُدْ.
یعلیٰ (رض) کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرا، میں خلوق لگائے ہوئے تھا، آپ نے فرمایا : یعلیٰ ! کیا تمہاری بیوی ہے ؟ میں نے عرض کیا : نہیں۔ آپ نے فرمایا : جاؤ، اسے دھوؤ، پھر دھوؤ اور پھر دھوؤ، پھر ایسا نہ کرنا ، میں گیا اور اسے دھویا پھر دھویا اور پھر دھویا پھر ایسا نہیں کیا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٥١٢٤ (ضعیف ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5125