أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ وَهُوَ ابْنُ عُمَارَةَ، عَنْ غُنَيْمِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْالْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): أَيُّمَا امْرَأَةٍ اسْتَعْطَرَتْ فَمَرَّتْ عَلَى قَوْمٍ لِيَجِدُوا مِنْ رِيحِهَا فَهِيَ زَانِيَةٌ.
ابوموسیٰ اشعری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو عورت عطر لگائے اور پھر لوگوں کے سامنے سے گزرے تاکہ وہ اس کی خوشبو سونگھیں تو وہ زانیہ ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الترجل ٧ (١٤٧٣) ، سنن الترمذی/الأدب ٣٥ (الاستئذان ٦٩) (٢٧٨٦) ، (تحفة الأشراف : ٩٠٢٣) ، مسند احمد (٤/٣٩٤، ٤٠٠، ٤٠٧، ٤١٣، ٤١٤، ٤١٨) (حسن ) وضاحت : ١ ؎: یعنی وہ عطر مہک والا ہو، اور مہک والا عطر لگا کر باہر نکلنا عورتوں کے لیے حرام ہے، گھر میں شوہر کے لیے لگا سکتی ہیں۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5126