أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَتْ هِنْدٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ)، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ، وَلَا يُنْفِقُ عَلَيَّ وَوَلَدِي مَا يَكْفِينِي، أَفَآخُذُ مِنْ مَالِهِ وَلَا يَشْعُرُ، قَالَ: خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدِكِ بِالْمَعْرُوفِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہند رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر کہا : اللہ کے رسول ! ابوسفیان بخیل شخص ہیں، وہ مجھ پر اور میرے بچوں پر اس قدر نہیں خرچ کرتے ہیں جو کافی ہو، تو کیا میں ان کے مال میں سے کچھ لے لیا کروں اور انہیں پتا بھی نہ چلے ؟ آپ نے فرمایا : بھلائی کے ساتھ اس قدر لے لو کہ تمہارے لیے اور تمہارے بچوں کے لیے کافی ہو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الٔاقضیة ٤ (١٧١٤) ، (تحفة الأشراف : ١٧٢٦١) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/البیوع ٩٥ (٢٢١١) ، والمظالم ١٨ (٢٤٦٠) ، النفقات ٥ (٥٣٥٩) ، ٩ (٥٣٦٤) ، ١٤ (٥٣٧) ، الأیمان ٣ (٦٦٤١) ، الأحکام ١٤ (٧١٦١) ، ٢٨ (٧١٨٠) ، سنن ابی داود/البیوع ٨١ (٣٥٣٢) ، سنن ابن ماجہ/التجارات ٦٥ (٢٢٩٣) ، مسند احمد (٣٩٦، ٥٠، ٢٠٦) ، سنن الدارمی/النکاح ٥٤ (٢٣٠٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس غائب اور غیر موجود کو پہچانتا ہو، اور مدعی کی صداقت اور مدعی علیہ کے حالات سے گہری واقفیت رکھتا ہو جیسا کہ ہند اور ابوسفیان (رض) کے معاملہ کی بابت آپ ﷺ جانتے تھے، ہر مدعی علیہ کے بارے میں اس طرح فیصلہ نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ عام حالات میں مدعی کی گواہی یا قسم اور مدعا علیہ کے بیان سننے کی ضرورت ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5420