أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، وَكَانَ عَامِلًا عَلَى سِجِسْتَانَ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ أَبُو بَكْرَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) يَقُولُ: لَا يَقْضِيَنَّ أَحَدٌ فِي قَضَاءٍ بِقَضَاءَيْنِ، وَلَا يَقْضِي أَحَدٌ بَيْنَ خَصْمَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ.
عبدالرحمٰن بن ابوبکرہ (سجستان کے گورنر تھے) کہتے ہیں کہ مجھے ابوبکرہ (رض) نے لکھ بھیجا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : کوئی ایک قضیہ میں دو فیصلے نہ کرے ١ ؎، اور نہ کوئی دو فریقوں کے درمیان غصے کی حالت میں فیصلہ کرے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٥٤٠٨ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: کیونکہ قضاء کا مقدمہ جھگڑے کو ختم کرنا ہے، اور ایک ہی معاملہ میں دو طرح کے فیصلے سے جھگڑا ختم نہیں ہوتا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5421