حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ أَبُو الأَشْعَثِ الْعِجْلِيُّ الْبَصْرِيُّ قَالَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَرْجِسَ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صلی الله عليه وسلم وَهُوَ فِي نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَدُرْتُ هَکَذَا مِنْ خَلْفِهِ فَعَرَفَ الَّذِي أُرِيدُ فَأَلْقَی الرِّدَائَ عَنْ ظَهْرِهِ فَرَأَيْتُ مَوْضِعَ الْخَاتَمِ عَلَی کَتِفَيْهِ مِثْلَ الْجُمْعِ حَوْلَهَا خِيلانٌ کَأَنَّهَا ثَآلِيلُ فَرَجَعْتُ حَتَّی اسْتَقْبَلْتُهُ فَقُلْتُ غَفَرَ اللَّهُ لَکَ يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ وَلَکَ فَقَالَ الْقَوْمُ أَسْتَغْفَرَ لَکَ رَسُولُ اللهِ صلی الله عليه وسلم فَقَالَ نَعَمْ وَلَکُمْ ثُمَّ تَلا هَذِهِ الآيَةَ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِکَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ
عبداللہ بن سرجس کہتے ہیں کہ میں حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضور ﷺ کے پاس اس وقت مجمع تھا، میں نے اس طرح حضور ﷺ کے پس پشت چکر لگایا (راوی نے اس جگہ غالباً چکر لگا کر فعلی صورت بیان کی) حضور ﷺ میرا منشاء سمجھ گئے اور اپنی پشت مبارک سے چادر اتاردی۔ میں نے مہر نبوت کی جگہ کو آپ ﷺ کے دونوں شانوں کے درمیان مٹھی کے ہم شکل دیکھا، جس کے چاروں طرف تل تھے جو گویا مسوں کے برابر معلوم ہوتے تھے۔ پھر میں حضور ﷺ کے سامنے آیا اور میں نے عرض کیا اللہ تعالیٰ جل شانہ، آپ کی مغفرت فرمائے (یا اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی مغفرت فرما دی جیسا کہ سورت فتح میں اللہ جل شانہ کا ارشاد ہے لیغفر لک اللہ ماتقدم من ذنبک) ۔