حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صِيَامِ رَسُولِ اللهِ صلی الله عليه وسلم قَالَتْ کَانَ يَصُومُ حَتَّی نَقُولَ قَدْ صَامَ وَيُفْطِرُ حَتَّی نَقُولَ قَدْ أَفْطَرَ قَالَتْ وَمَا صَامَ رَسُولُ اللهِ صلی الله عليه وسلم شَهْرًا کَامِلا مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ إِلا رَمَضَانَ
عبداللہ بن شقیق (رض) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ (رض) سے حضور اقدس ﷺ کے روزے رکھنے کے متعلق پوچھا انہوں نے فرمایا کہ کبھی حضور اقدس ﷺ متواتر روزے رکھتے کہ ہمارا یہ خیال ہوتا کہ اس ماہ میں افطار ہی نہیں فرمائیں گے اور کبھی ایسا مسلسل افطار فرماتے تھے کہ ہمارا یہ خیال ہوتا کہ اس ماہ میں روزہ ہی نہیں رکھیں گے۔ لیکن مدینہ منورہ تشریف آوری کے بعد سے رمضان المبارک کے علاوہ کسی تمام ماہ کے روزے نہیں رکھے (ایسے ہی کسی ماہ کو کامل افطار گزار دیا ہو یہ بھی نہیں کیا۔ (کمافی ابی داؤد) حضور اقدس ﷺ کے اس معمول کے متعلق کسی قدر تفصیل اگلی حدیث میں آئے گی۔