حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ صَوْمِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وسلم فَقَالَ کَانَ يَصُومُ مِنَ الشَّهْرِ حَتَّی نَرَی أَنْ لا يُرِيدَ أَنْ يُفْطِرَ مِنْهُ وَيُفْطِرُ مِنْهُ حَتَّی نَرَی أَنْ لا يُرِيدَ أَنْ يَصُومَ مِنْهُ شَيْئًا وَکُنْتَ لا تَشَائُ أَنْ تَرَاهُ مِنَ اللَّيْلِ مُصَلِّيًا إِلا رَأَيْتَهُ مُصَلِّيًا وَلا نَائِمًا إِلا رَأَيْتَهُ نَائِمًا
حضرت انس (رض) سے کسی نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ کے روزوں کے متعلق پوچھا، انہوں نے فرمایا کہ عادت شریفہ اس میں مختلف تھی کسی ماہ میں تو اتنی کثرت سے روزے رکھتے تھے جس سے یہ خیال ہوجاتا ہے کہ اس میں افطار فرمانے کا ارادہ ہی نہیں ہے اور کسی ماہ میں ایسا مسلسل افطار فرماتے تھے۔ جس سے ہم یہ سمجھتے کہ اس ماہ میں آپ ﷺ کا روزوں کا ارادہ ہی نہیں ہے آپ ﷺ کی عادت شریفہ یہ بھی تھی کہ اگر تم حضور اکرم ﷺ کو رات کو سوتا ہوا دیکھنا چاہو تو یہ بھی مل جاتا ہے اور اگر نماز پڑھتا ہوا دیکھنا چاہو تو یہ بھی میسر ہوجاتا۔