حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَی قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُکَيْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَعْبٍ الْقُرَظِيِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللهِ صلی الله عليه وسلم يُقْبِلُ بِوَجْهِهِ وَحَدِيثِهِ عَلَی أَشَرِّ الْقَوْمِ يَتَأَلَّفُهُمْ بِذَلِکَ فَکَانَ يُقْبِلُ بِوَجْهِهِ وَحَدِيثِهِ عَلَيَّ حَتَّی ظَنَنْتُ أَنِّي خَيْرُ الْقَوْمِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ أَنَا خَيْرٌ أَوْ أَبُو بَکْرٍ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ أَنَا خَيْرٌ أَوْ عُمَرُ فَقَالَ عُمَرُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ أَنَا خَيْرٌ أَوْ عُثْمَانُ فَقَالَ عُثْمَانُ فَلَمَّا سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صلی الله عليه وسلم فَصَدَقَنِي فَلَوَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَکُنْ سَأَلْتُهُ
حضرت عمرو بن العاص (رض) کہتے ہیں کہ قوم کے بدترین شخص کی طرف سے بھی حضور اقدس ﷺ تالیف قلوب کے خیال سے اپنی توجہ اور اپنی خصوصی گفتگو مبذول فرماتے تھے، (جس کی وجہ سے اس کو اپنی خصوصیت کا خیال ہوجاتا تھا) چناچہ خود میری طرف بھی حضور ﷺ کی توجہات عالیہ اور کلام کا رخ بہت زیادہ رہتا تھا، حتیٰ کہ میں یہ سمجھنے لگا کہ میں قوم کا بہترین شخص ہوں اسی وجہ سے حضور اکرم ﷺ سب سے زیادہ توجہ فرماتے ہیں۔ میں اسی خیال سے ایک دن دریافت کیا کہ حضور ﷺ سے کہ میں افضل ہوں یا ابوبکر (رض) ؟ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ابوبکر ( رض ) ۔ پھر میں نے پوچھا کہ میں افضل ہوں یا عمر (رض) ؟ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا عمر ( رض ) ۔ پھر میں نے پوچھا کہ میں افضل ہوں یا عثمان (رض) ؟ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ عثمان ( رض) ؟۔