hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 10

.

الطحاوي

10
Al Tahawi
۱۰ : حَدَّثَنَا فَہْدُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ ثَنَا یَحْیَی بْنُ عَبْدِ الْحَمِیْدِ الْحِمَّانِیُّ قَالَ ثَنَا أَبُوْ بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ عَنْ سَمْعَانَ بْنِ مَالِکِ ڑالْأَسَدِیِّ عَنْ أَبِیْ وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ : ( بَالَ أَعْرَابِیٌّ فِی الْمَسْجِدِ فَأَمَرَ بِہِ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَصُبَّ عَلَیْہِ دَلْوٌ مِنْ مَائٍ ، ثُمَّ أَمَرَ بِہٖ فَحَفَرَ مَکَانَہُ).قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَکَانَ مَعْنٰی قَوْلِہٖ (إِنَّ الْأَرْضَ لَا تَنْجُسُ) أَیْ أَنَّہَا لَا تَبْقَیْ نَجِسَۃً اِذَا زَالَتِ النَّجَاسَۃُ مِنْہَا لَا أَنَّہٗ یُرِیْدُ أَنَّہَا غَیْرُ نَجِسَۃٍ فِیْ حَالِ کَوْنِ النَّجَاسَۃِ فِیْہَا .فَکَذٰلِکَ قَوْلُہُ فِیْ بِئْرِ بُضَاعَۃَ ( إِنَّ الْمَائَ لَا یُنَجِّسُہٗ شَیْئٌ ) لَیْسَ ہُوَ عَلٰی حَالِ کَوْنِ النَّجَاسَۃِ فِیْہَا ؛ إِنَّمَا ہُوَ عَلٰی حَالِ عَدَمِ النَّجَاسَۃِ فِیْہَا .فَھٰذَا وَجْہُ قَوْلِہٖ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ بِئْرِ بُضَاعَۃَ ( الْمَائُ لَا یُنَجِّسُہٗ شَیْئٌ) - وَاللّٰہُ أَعْلَمُ - وَقَدْ رَأَیْنَاہُ بَیَّنَ ذٰلِکَ فِیْ غَیْرِ ھٰذَا الْحَدِیْثِ .
١٠ : ابو وائل نے حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت نقل کی ہے کہ ایک اعرابی نے مسجد میں پیشاب کردیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم فرمایا (کہ اس پر پانی ڈالا جائے تو) اس پر پانی کا ایک ڈول بہا دیا گیا پھر (پانی جذب ہونے کے بعد) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس جگہ کو کھودنے کا حکم فرمایا۔ ابو جعفر (رح) کہتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس ارشاد : (ان الارض لا تنجس) کا معنی یہ ہے کہ زمین سے جب نجاست دور کردی جائے تو وہ نجس باقی نہیں رہتی یہ معنی نہیں ہے کہ نجاست کے ہونے کے باوجود وہ پلید نہیں ہوتی چنانچہ اس طرح بیر بضاعہ کے بارے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد : (ان الماء لاینجسہ) نجاست کہ اس میں رہنے کی صورت میں نہیں بلکہ وہ نجاست کے نہ ہونے کی صورت میں ہے یہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد کی (الماء یجنس) وجہ سے ۔ (واللہ اعلم) چنانچہ یہ وضاحت ہم نے اس حدیث کے علاوہ میں پائی ہے۔
اللغات : صب۔ پانی کا بہنا ‘ بہانا۔
تخریج : دار قطنی کتاب الطھارۃ ١؍١٣٢
تبصرہ طحاوی (رح) :
اس سے معلوم ہوا کہ ان الارض لا تنجس “ کا مطلب یہ ہے کہ جب نجاست زائل کردی جائے تو زمین ناپاک نہیں رہتی یہ مطلب نہیں کہ نجاست کے پائے جانے کی شکل میں وہ مقام ناپاک نہیں ہوتا۔
بالکل اسی طرح بیر بضاعہ کا معاملہ ہے کہ ان الماء لا ینجسہ شیٔ“ میں نجاست کے کنوئیں میں موجود ہونے کی حالت کا تذکرہ نہیں بلکہ نجاست کے نکال دیئے جانے کے بعد والی حالت کا ذکر ہے۔ ہم نے لا ینجسہ شیٔ کی جو وجہ بیر بضاعہ کے متعلق بیان کی ہے یہ اور کئی روایات سے بھی ثابت ہے جو ہمارے اس بیان کی تصدیق کرتی ہیں ان کو ذیل میں ملاحظہ فرمائیں۔