۱۰۱ : حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِیْدٍ قَالَ أَنَا الدَّرَاوَرْدِیُّ عَنِ ابْنِ حَرْمَلَۃَ عَنْ أَبِیْ ثِفَالِ الْمُرِّیِّ عَنْ رَبَاحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْعَامِرِیِّ عَنِ ابْنِ ثَوْبَانَ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلَہٗ فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی أَنَّ مَنْ لَمْ یُسَمِّ عَلٰی وُضُوْئِ الصَّلَاۃِ فَلَا یُجْزِیْہِ وُضُوْئُ ہٗ وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِھٰذِہِ الْآثَارِ وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا مَنْ لَمْ یُسَمِّ عَلٰی وُضُوْئِہٖ فَقَدْ أَسَائَ وَقَدْ طَہُرَ بِوُضُوْئِہٖ ذٰلِکَ وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِمَا۔
١٠١ : ابن ثوبان نے حضرت ابوہریرہ (رض) کی وساطت سے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح نقل کیا ہے۔ بعض علماء کا یہ خیال ہے کہ جس نے نماز والے وضو میں بسم اللہ نہ پڑھی تو اس کا وضو درست نہیں اور اس سلسلہ میں انھوں نے ان ہی روایات کو پیش کیا ہے۔ علماء کی دوسری جماعت نے ان سے اختلاف کیا اور یہ کہا کہ ” جس نے وضو میں بسم اللہ نہ پڑھی اس نے برا کیا اور اس وضو سے وہ پاک ہوگیا “ اس کے لیے مندرجہ روایات سے انھوں نے دلیل بیان کی ہے۔
تخریج : ابن ماجہ ١؍٣٢
حاصل روایات : یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نام یعنی تسمیہ کے بغیر وضو نہ ہوگا۔