hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 102

.

الطحاوي

102
Al Tahawi
۱۰۲ : حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ قَالَ ثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ عَنْ سَعِیْدٍ عَنْ قَتَادَۃَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ حُضَیْنٍ أَبِیْ سَاسَانَ عَنِ (الْمُہَاجِرِ بْنِ قُنْفُدٍ أَنَّہٗ سَلَّمَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ یَتَوَضَّأُ فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیْہِ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ وُضُوْئِہِ قَالَ إِنَّہٗ لَمْ یَمْنَعْنِیْ أَنْ أَرُدَّ عَلَیْکَ إِلَّا أَنِّیْ کَرِہْتُ أَنْ أَذْکُرَ اللّٰہَ إِلَّا عَلٰی طَہَارَۃٍ) .فَفِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَرِہَ أَنْ یَذْکُرَ اللّٰہَ إِلَّا عَلٰی طَہَارَۃٍ وَرَدَّ السَّلَامَ بَعْدَ الْوُضُوْئِ الَّذِیْ صَارَ بِہٖ مُتَطَہِّرًا .فَفِیْ ذٰلِکَ دَلِیْلٌ أَنَّہٗ قَدْ تَوَضَّأَ قَبْلَ أَنْ یَذْکُرَ اسْمَ اللّٰہِ .وَکَانَ قَوْلُہٗ " لَا وُضُوْئَ لِمَنْ لَمْ یُسَمِّ " یُحْتَمَلُ أَیْضًا مَا قَالَہُ أَہْلُ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی وَیُحْتَمَلُ " لَا وُضُوْئَ لَہٗ " أَیْ لَا وُضُوْئَ لَہٗ مُتَکَامِلًا فِی الثَّوَابِ ، کَمَا قَالَ ( لَیْسَ الْمِسْکِیْنُ الَّذِیْ تَرُدُّہُ التَّمْرَۃُ وَالتَّمْرَتَانِ وَاللُّقْمَۃُ وَاللُّقْمَتَانِ ) فَلَمْ یُرَدُّ بِذٰلِکَ أَنَّہٗ لَیْسَ بِمِسْکِیْنٍ خَارِجٍ مِنْ حَدِّ الْمَسْکَنَۃِ کُلِّہَا حَتّٰی تَحْرُمَ عَلَیْہِ الصَّدَقَۃُ .وَإِنَّمَا أَرَادَ بِذٰلِکَ أَنَّہٗ لَیْسَ بِالْمِسْکِیْنِ الْمُتَکَامِلِ فِی الْمَسْکَنَۃِ الَّذِیْ لَیْسَ بَعْدَ دَرَجَتِہٖ فِی الْمَسْکَنَۃِ دَرَجَۃٌ .
١٠٢ : مہاجر بن قُنفد (رض) کہتے ہیں کہ میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کیا جبکہ آپ وضو فرما رہے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کوئی جواب نہ دیا جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وضو سے فارغ ہوچکے تو فرمایا ” تمہارے سلام کا جواب دینے میں مجھے کوئی چیز مانع نہ تھی مگر میں نے بلاطہارت اللہ تعالیٰ کا نام لینا پسند نہ کیا۔ اس روایت میں یہ ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے طہارت کے بغیر اللہ کا نام لینا ناپسند فرمایا اور سلام کا جواب بھی وضو کے بعد طہارت کے ساتھ دیا۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ آپ نے اللہ کا نام لینے سے پہلے وضو کیا اور رہا آپ کا یہ ارشاد کہ اس آدمی کا وضو نہیں جس نے بسم اللہ نہیں پڑھی۔ اس میں اس بات کا بھی احتمال ہے جس کو پہلے قول والوں نے اختیار کیا اور اس بات کا بھی احتمال ہے کہ اس کا وضو ثواب کے اعتبار سے کامل نہیں جیسا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ کامل مسکین وہ نہیں جسے ایک کھجور یا دو کھجور اور ایک لقمہ یا دو لقمے دروازے سے واپس کردیں۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ وہ مسکینوں کی حدود سے خارج ہے یہاں تک کہ اس پر صدقے کو حرام قرار دیا جائے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ ایسا کامل مسکین نہیں کہ جس کے بعد مسکینی کا کوئی درجہ نہ ہو۔
تخریج : مسند احمد ٤؍٣٤٥
علامہ فرماتے ہیں :
اس روایت سے یہ معلوم ہوا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے طہارت کے بغیر اللہ تعالیٰ کا نام لینا پسند نہ فرمایا اور وضو سے جب طہارت حاصل ہوچکی تو آپ نے سلام کا جواب مرحمت فرمایا اس سے یہ بات خود سامنے آگئی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ تعالیٰ کا نام زبان پر لانے سے پہلے وضو کیا اگر وضو سے طہارت حاصل نہیں ہوتی تو طہارت کی حالت میں اللہ تعالیٰ کا نام لینا کیا معنی رکھتا ہے۔
جواب دلیل :
قول اول کے قائلین کی دلیل میں د وپہلو ہیں نمبر ١: ایک یہ بھی ممکن ہے کہ وضو بالکل نہ ہو نمبر ٢: اور یہ بھی ممکن ہے کمال ثواب کی نفی ہو نفس شیٔ کی نفی نہ ہو اس کی احادیث میں کثرت سے مثالیں موجود ہیں امام طحاوی نے دو کا تذکرہ فرمایا ہے۔ نمبر ١: لیس المسکین الذی تردہ التمرۃ والتمرتان واللقمۃ واللقمتان “ اس سے یہ مراد نہیں کہ وہ مسکین بلکہ حد مسکنت سے باہر ہے یہاں تک کہ اس کو صدقہ نہ دیا جائے اور وہ صدقہ کا حقدار نہ رہے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ مسکنت میں کامل درجہ کا نہیں کہ جس کے بعد مسکنت کا کوئی درجہ نہ رہ جاتا ہو۔
نمبر ٢ یہ ارشاد بھی لیس المؤمن الذی یبیت شبعان وجارہ جائع “ کی طرح ہے اس سے یہ مراد نہیں کہ وہ ہمسایہ کا خیال نہ کرنے کی وجہ سے ایمان سے نکل کر کفر میں داخل ہوگیا بلکہ مراد یہ ہے کہ کمال ایمان کا تقاضا یہ نہیں کہ ہمسائے کے دکھ سکھ کا خیال نہ ہو۔