۱۰۱۳ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ، قَالَ : ثَنَا خَطَّابُ بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ : ثَنَا إِسْمَاعِیْلُ بْنُ عَیَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ خُثَیْمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ لَبِیْبَۃَ الطَّائِفِیِّ، أَنَّہٗ سَأَلَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ عَنِ الصَّلَاۃِ الْوُسْطٰی، فَقَالَ : سَأَقْرَأُ عَلَیْکَ الْقُرْآنَ، حَتَّی تَعْرِفَہَا، أَلَیْسَ یَقُوْلُ اللّٰہُ - عَزَّ وَجَلَّ - فِی کِتَابِہٖ (أَقِمِ الصَّلَاۃَ لِدُلُوْکِ الشَّمْسِ) الظُّہْرُ (إِلٰی غَسَقِ اللَّیْلِ) الْمَغْرِبُ) (وَمِنْ بَعْدِ صَلَاۃِ الْعِشَائِ ثَلَاثُ عَوْرَاتٍ لَـکُمْ) الْعَتَمَۃُ وَیَقُوْلُ (إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ کَانَ مَشْہُوْدًا) [الإسرائ: ۷۸]، الصُّبْحُ، ثُمَّ قَالَ : (حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاۃِ الْوُسْطٰی وَقُوْمُوْا لِلّٰہِ قَانِتِیْنَ) ہِیَ الْعَصْرُ ہِیَ الْعَصْرُ .فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ : وَلِمَ سُمِّیَتْ صَلَاۃُ الْوُسْطٰی صَلَاۃَ الْعَصْرِ؟ قِیْلَ لَہٗ : قَدْ قَالَ النَّاسُ فِیْ ھٰذَا قَوْلَیْنِ، فَقَالَ قَوْمٌ : سُمِّیَتْ بِذٰلِکَ لِأَنَّہَا بَیْنَ صَلَاتَیْنِ مِنْ صَلَاۃِ اللَّیْلِ وَبَیْنَ صَلَاتَیْنِ مِنْ صَلَاۃِ النَّہَارِ .وَقَالَ آخَرُوْنَ فِیْ ذٰلِکَ۔
١٠١٣: عبدالرحمن لبیبہ الطائفی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے صلوۃ وسطیٰ کے متعلق پوچھا تو کہنے لگے میں عنقریب تمہیں قرآن مجید کی آیات پڑھ کر سناؤں گا تاکہ تو پہچان لے کیا اللہ نے اپنی کتاب میں نہیں فرمایا : { أَقِمْ الصَّلَاۃَ لِدُلُوْکِ الشَّمْسِ } (الاسرائ : ٧٨) {إِلٰی غَسَقِ اللَّیْلِ } (الاسرائ : ٧٨) { وَمِنْ بَعْدِ صَلَاۃِ الْعِشَائِ ثَلَاثُ عَوْرَاتٍ لَکُمْ } عشاء اور فرماتے ہیں :{إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ کَانَ مَشْہُوْدًا } (الاسرائ : ٧٨) (الصبح) پھر فرمایا : { حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاۃِ الْوُسْطٰی وَقُوْمُوْا لِلّٰہِ قَانِتِیْنَ }(البقرہ : ٢٣٨) وہ عصر وہ عصر ہے۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ صلوۃ وسطیٰ کا نام صلوۃ عصر کیونکر رکھا گیا تو اس کے جواب میں کہیں گے لوگوں نے اس سے متعلق دو باتیں کہی ہیں۔ بعض لوگوں نے کہا کیونکہ یہ دو رات اور دو دن کی نمازوں کے درمیان واقع ہے۔
تخریج : مصنف ابن ابی شیبہ کتاب الصلاۃ ٢؍٥٠٦۔
صلاۃ وسطیٰ کی وجہ تسمیہ :
اس کے متعلق دو اقوال ہیں :
نمبر ١: اس کو صلوۃ وسطیٰ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ دو دو نمازوں کے درمیان میں واقع ہے رات کی نمازیں اور دن کی نمازیں۔ دوسرا قول : جو روایت میں مذکور ہے۔