hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 1014

.

الطحاوي

1014
Al Tahawi
۱۰۱۴ : مَا حَدَّثَنِی الْقَاسِمُ بْنُ جَعْفَرَ، قَالَ : سَمِعْتُ بَحْرَ بْنَ الْحَکَمِ الْکَیْسَانِیَّ یَقُوْلُ : سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَائِشَۃَ یَقُوْلُ : إِنَّ آدَمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ، لَمَّا تِیْبَ عَلَیْہِ عِنْدَ الْفَجْرِ، صَلّٰی رَکْعَتَیْنِ فَصَارَتِ الصُّبْحُ، وَفُدِیَ إِسْحَاقُ عِنْدَ الظُّہْرِ فَصَلّٰی اِبْرَاہِیْمُ عَلَیْہِ السَّلَامُ أَرْبَعًا، فَصَارَتْ الظُّہْرُ، وَبُعِثَ عُزَیْرٌ فَقِیْلَ لَہٗ کَمْ لَبِثْت؟ فَقَالَ : یَوْمًا، فَرَأَی الشَّمْسَ فَقَالَ : أَوْ بَعْضَ یَوْمٍ، فَصَلّٰی أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ فَصَارَتِ الْعَصْرُ .وَقَدْ قِیْلَ غُفِرَ لِعُزَیْرٍ عَلَیْہِ السَّلَامُ، وَغُفِرَ لِدَاوٗدَ عَلَیْہِ السَّلَامُ، عِنْدَ الْمَغْرِبِ، فَقَامَ فَصَلّٰی أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ، فَجُہِدَ فَجَلَسَ فِی الثَّالِثَۃِ، فَصَارَتَ الْمَغْرِبُ ثَلَاثًا .وَأَوَّلُ مَنْ صَلَّی الْعِشَائَ الْآخِرَۃَ، نَبِیُّنَا مُحَمَّدٌ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَلِذٰلِکَ قَالُوا الصَّلَاۃُ الْوُسْطٰی ہِیَ صَلَاۃُ الْعَصْرِ .فَھٰذِہٖ - عِنْدَنَا - مَعْنًی صَحِیْحٌ، لِأَنَّ أَوَّلَ الصَّلَوَاتِ إِنْ کَانَتْ الصُّبْحُ، وَآخِرَہَا الْعِشَائُ الْآخِرَۃُ، فَالْوُسْطٰی فِیْمَا بَیْنَ الْأُوْلٰی وَالْآخِرَۃِ ہِیَ الْعَصْرُ، فَلِذٰلِکَ قُلْنَا : إِنَّ الصَّلَاۃَ الْوُسْطٰی، صَلَاۃُ الْعَصْرِ، وَھٰذَا قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ، وَأَبِیْ یُوْسُفَ وَمُحَمَّدٍ، رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی .
١٠١٤: ابو عبدالرحمن نے کہا آدم (علیہ السلام) کی توبہ جب فجر کے وقت قبول ہوئی تو انھوں نے دو رکعت نماز پڑھی پس صبح کی نماز ہوگئی اسحاق کا فدیہ ظہر کے وقت ادا کیا گیا تو ابراہیم (علیہ السلام) نے چار رکعت پڑھیں پس ظہر بن گئی جب عزیز (علیہ السلام) کو کہا گیا : کم لبثت ؟ تو انھوں نے یوماً کہا پھر سورج کو دیکھ کر کہا یا دن کا بعض حصہ پس انھوں نے چار رکعت پڑھیں اس سے عصر بن گئی یہ بھی کہا گیا ہے کہ عزیر (علیہ السلام) کی بخشش کردی گئی (تو انھوں نے چار رکعت نماز پڑھی) داؤد (علیہ السلام) کی بخشش غروب کے قریب ہوئی تو انھوں نے چار رکعت کی نیت باندھی تھک گئے تو تیسری میں بیٹھ گئے پس مغرب تین رکعت بن گئی سب سے پہلے عشاء کی نماز پڑھنے والے ہمارے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں اسی وجہ سے کہا گیا کہ صلوۃ وسطیٰ وہ صلوۃ عصر ہے کتاب روضۃ العلماء لابو علی بخاری میں اس کے متعلق بہت مختلف حکایت لکھی ہے۔ اسی وجہ سے انھوں نے کہا کہ صلوٰۃ وسطیٰ وہی نماز عصر ہے یہ مفہوم ہمارے ہاں درست ہے۔ اگر ابتداء دن کے لحاظ سے پہلی نماز صحیح ہے اور نماز میں آخری عشاء ہے اور سب سے پہلی اور آخری کے درمیان والی وسطیٰ ہے اسی وجہ سے ہم کہتے ہیں کہ صلوۃ وسطیٰ وہی نماز عصر ہے اور یہ امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد (رح) کا قول ہے۔
تخریج : خصائص کبرٰی سیوطی۔
ایک تنبیہ : علامہ طحاوی (رح) کو معلوم نہیں اس اسرائیلی حکایت کی کیا حاجت پڑی اسحاق (علیہ السلام) کو ذبیح قرار دینا تحقیق کے خلاف ہے اس روایت کے حکایت ہونے کے لیے یہ بات کافی نشانی ہے۔
اول نماز اگر صبح ہو تو آخری عشاء ہے ان کے مابین وسطیٰ نماز عصر ہی بنے گی اسی وجہ سے عصر کو وسطیٰ کہا اور اسی کو ارشادات نبوی سے بالتفصیل ثابت کیا یہی ہمارے ائمہ ثلاثہ (رح) کا قول ہے۔
نوٹ : اس باب میں امام طحاوی (رح) نظر نہیں لائے کبھی کبھی صاحب نظر بھی نظر نہیں کرتے اس طرح کی اسرائیلی حکایت پہلی مرتبہ کتاب میں لائے۔