hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 1015

.

الطحاوي

1015
Al Tahawi
۱۰۱۱۵ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ، عَنِ الزُّہْرِیِّ، عَنْ عُرْوَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا، قَالَتْ : (کُنَّا نِسَائً مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ یُصَلِّیْنَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلَاۃَ الصُّبْحِ، مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوْطِہِنَّ، ثُمَّ یَرْجِعْنَ إِلٰی أَہْلِہِنَّ، وَمَا یَعْرِفُہُنَّ أَحَدٌ) .
١٠١٥: زہری نے عروہ سے اور انھوں نے حضرت عائشہ (رض) سے روایت کی ہے کہ ہم مؤمن عورتیں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ صبح کی نماز پڑھتیں اپنی چادروں میں لپٹی ہوتیں پھر اپنے گھر واپس لوٹتیں تو (اندھیرے کی وجہ سے سے) ان کو کوئی پہچان نہ سکتا تھا۔
اللغات : متلفعات جمع متلفعہ۔ لپٹنا ‘ مروط جمع مرط چادر۔
تخریج : بخاری فی الصلاۃ باب ١٣‘ المواقیت باب ٣٧‘ مسلم فی المساجد نمبر ٢٣٠؍٢٣١‘ ابو داؤد فی الصلاۃ باب ٨‘ ترمذی فی المواقیت باب ٢‘ نسائی فی المواقیت باب ٢٥‘ دارمی فی الصلاۃ باب ٢٠‘ مالک فی الصلاۃ نمبر ٤‘ مسند احمد ٦؍٣٣‘ ٣٧‘ ٢٤٧‘ بیہقی فی سنن کبرٰی ١؍٤٥٤۔
خلاصہ الزام :
نمبر ١: فجر کا مستحب وقت امام مالک و شافعی (رح) کے ہاں ابتداء و انتہا اندھیرے میں ہو۔
نمبر ٢: امام ابوحنیفہ (رح) اور ابو یوسف (رح) اور محمد (رح) اسفار میں ابتداء اور اسفار میں اختتام۔
نمبر ٣: امام احمد کے ہاں جس میں تکثیر جماعت ہو اندھیرا ہو یا سپیدا۔
نمبر ٤: امام طحاوی اندھیرے میں شروع کر کے سپیدے میں اختتام کرنا افضل ہے۔