hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 103

.

الطحاوي

103
Al Tahawi
۱۰۳ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ ثَنَا أَبُوْ عُمَرَ الْحَوْضِیُّ قَالَ ثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ عَنْ اِبْرَاہِیْمَ الْہَجَرِیِّ عَنْ أَبِی الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ ( لَیْسَ الْمِسْکِیْنُ بِالطَّوَّافِ الَّذِیْ تَرُدُّہُ التَّمْرَۃُ وَالتَّمْرَتَانِ وَاللُّقْمَۃُ وَاللُّقْمَتَانِ قَالُوْا فَمَنِ الْمِسْکِیْنُ ؟ قَالَ الَّذِیْ یَسْتَحْیٖ أَنْ یَسْأَلَ ، وَلَا یَجِدُ مَا یُغْنِیْہِ وَلَا یُفْطَنُ لَہٗ فَیُعْطٰی).
١٠٣ : حضرت عبداللہ (رض) نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کیا کہ کامل مسکین وہ نہیں کہ جس کو ایک یا دو کھجوریں اور ایک لقمہ اور دو لقمے لوٹا دیتے ہیں صحابہ کرام نے استفسار کیا پھر مسکین کون ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اصل مسکین وہ ہے جس کو حاجت کے لیے سوال کرتے ہوئے حیاء آتی ہے مگر وہ اتنا بھی نہیں پاتا جو اس کو مستغنی کر دے اور نہ لوگ اس کو ضرورت مند جانتے ہیں کہ اس کو دیں۔
اللغات : ترد۔ لوٹانا۔ یستحیی۔ حیاء کرنا۔ شرم محسوس کرنا۔
تخریج : بخاری فی الزکوۃ باب ٥٣‘ تفسیر سورة ٢ باب ٤٨‘ نسائی فی الزکوۃ باب ٧٦‘ دارمی فی الزکوۃ باب ٢‘ مالک فی موطا فی صفۃ النبی ا روایت ٧‘ مسند احمد ١؍٣٨٤‘ ٤٤٦‘ ٢؍٣١٦۔