۱۰۴۰ : حَدَّثَنَا قَالَ : ثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْہَالِ، قَالَ : ثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ : سَمِعْتُ مَنْصُوْرَ بْنَ الْمُعْتَمِرِ یُحَدِّثُ عَنْ اِبْرَاہِیْمَ النَّخَعِیِّ، عَنْ قُرَّۃَ بْنِ حَیَّانَ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ : تَسَحَّرْنَا مَعَ عَلِیِّ بْنِ أَبِیْ طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنَ السُّحُوْرِ، أَمَرَ الْمُؤَذِّنَ، فَأَقَامَ الصَّلَاۃَ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَفِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ، أَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ دَخَلَ فِی الصَّلَاۃِ عِنْدَ طُلُوْعِ الْفَجْرِ، وَلَیْسَ فِیْ ذٰلِکَ دَلِیْلٌ عَلٰی وَقْتِ خُرُوْجِہٖ مِنْہَا أَیُّ وَقْتٍ کَانَ .فَقَدْ یُحْتَمَلُ أَنْ یَکُوْنَ أَطَالَ فِیْہَا الْقِرَائَ ۃَ فَأَدْرَکَ التَّغْلِیْسَ وَالتَّنْوِیْرَ جَمِیْعًا، وَذٰلِکَ عِنْدَنَا حَسَنٌ فَأَرَدْنَا أَنْ نَنْظُرَ ہَلْ رُوِیَ عَنْہُ مَا یَدُلُّ عَلَی شَیْئٍ مِنْ ذٰلِکَ۔
١٠٤٠: قرہ بن حیان بن الحارث کہتے ہیں ہم نے حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے ساتھ سحری کھائی ‘ جب سحری سے فارغ ہوئے تو مؤذن کو حکم دیا اس نے (اذان کہی) پھر نماز کی امامت کرائی۔ امام طحاوی (رح) کہتے ہیں کہ یہ حدیث بتلا رہی ہے کہ حضرت علی (رض) طلوعِ فجر کے وقت نماز میں داخل ہوتے۔ اس روایت میں آپ کے نماز سے نکلنے کی کوئی دلیل موجود نہیں ‘ ممکن ہے کہ آپ قراءت کو لمبا کرتے ہوں اور اندھیرے اور روشنی کے دونوں اوقات کو پالیتے ہوں۔ ہمارے نزدیک یہ بہترین بات ہے اب ہم ایسے آثار پیش کرتے ہیں جو اس پر دلالت کریں۔
تخریج : ابن ابی شیبہ ٢؍٢٧٦‘ بیہقی ١؍٥٦٣۔ الجواب نمبر ١: اس حدیث میں تو اتنی بات معلوم ہوتی ہے کہ آپ نے نماز غلس میں شروع فرمائی نماز کی فراغت کا اس میں تذکرہ نہیں پھر غلس کی افضلیت پر دلیل نہیں بن سکتی۔ قدیحتمل ان یکون سے امام طحاوی (رح) نے اپنا مؤقف شروع کیا ہے چنانچہ فرماتے ہیں یہ عین ممکن ہے کہ غلس میں نماز میں داخل ہوئے اور طویل قراءت فرمائی اور روشنی میں فارغ ہوئے اور اس کے لیے یہ روایت دلیل ہے جس کو ابو بشرالرقی نے نقل کیا ہے۔