۱۰۴۱ : فَإِذَا أَبُوْ بِشْرِ ڑ الرَّقِّیُّ قَدْ حَدَّثَنَا قَالَ : ثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِیْدِ : عَنْ دَاوٗدَ بْنِ یَزِیْدَ الْأَوْدِیِّ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ : کَانَ عَلِیُّ بْنُ أَبِیْ طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یُصَلِّیْ بِنَا الْفَجْرَ، وَنَحْنُ نَتَرَائَ ی الشَّمْسَ، مَخَافَۃَ أَنْ تَکُوْنَ قَدْ طَلَعَتْ .فَھٰذَا الْحَدِیْثُ یُخْبِرُ عَنِ انْصِرَافِہٖ أَنَّہٗ کَانَ فِیْ حَالِ التَّنْوِیْرِ، فَدَلَّ ذٰلِکَ عَلٰی مَا ذَکَرْنَا وَقَدْ رُوِیَ عَنْہُ أَیْضًا فِیْ ذٰلِکَ الْأَمْرِ بِالْاِسْفَارِ ۔
١٠٤١: داؤد بن یزید الاودی نے اپنے والد سے نقل کیا ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب (رض) فجر کی نماز پڑھاتے اور ہم سورج کی طرف نظر اٹھا کر دیکھتے کہ کہیں وہ تو طلوع نہیں ہوگیا۔ اس روایت میں آپ (رض) کے نماز سے لوٹنے کا وقت بتلایا گیا کہ وہ خوب روشنی کا وقت ہے اس سے ہماری بات پر دلالت مل گئی اور بعض روایات میں تو آپ (رض) سے اسفار کا حکم دینا بھی ثابت ہوتا ہے ‘ ملاحظہ ہو۔
تخریج : تفسیر طبری۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نماز سے خوب روشنی میں فارغ ہوتے اور یہ چیز تو ہمارے ہاں بھی افضل ہے اسفار کی روایات اور بھی وارد ہیں۔