۱۰۴۳ : حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا ابْنُ الْأَصْبَہَانِیِّ قَالَ : أَنَا سَیْفُ بْنُ ہَارُوْنَ الْبُرْجُمِیُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ سَلْعِ ڑ الْہَمْدَانِیِّ، عَنْ عَبْدِ خَیْرٍ قَالَ : کَانَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یُنَوِّرُ بِالْفَجْرِ أَحْیَانًا، وَیُغَلِّسُ بِہَا أَحْیَانًا .فَیُحْتَمَلُ تَغْلِیْسُہٗ بِہَا أَنْ یَکُوْنَ تَغْلِیْسًا یُدْرِکُ بِہِ الْاِسْفَارَ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ مِثْلُ ذٰلِکَ .
١٠٤٣: عبد خیر روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی (رض) کبھی تو فجر کو خوب روشنی میں ادا فرماتے اور کبھی غلس میں ادا کرتے۔ پس یہ قوی احتمال ہوا کہ تغلیس کو آپ اس لیے اختیار فرماتے تاکہ اس سے اسفار کو پائیں اور یہ فقط انہی کا طرز عمل نہیں بلکہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کا بھی طرز عمل تھا ان کے متعلق روایات ملاحظہ ہوں۔ آپ کے اندھیرے میں نماز پڑھنے کے متعلق یہ احتمال ہے کہ وہ ایسا اندھیرا ہو جس میں آپ سپیدے کو پالیتے اور حضرت عمر (رض) کا عمل بھی اسی طرح مروی ہے ‘ جیسا کہ اس روایت میں ہے۔