hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 1044

.

الطحاوي

1044
Al Tahawi
۱۰۴۴ : حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا ابْنُ الْأَصْبَہَانِیِّ قَالَ : أَنَا أَبُوْ بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ، عَنْ أَبِیْ حُصَیْنٍ، عَنْ خَرَشَۃَ بْنِ الْحُرِّ قَالَ : کَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یُنَوِّرُ بِالْفَجْرِ وَیُغَلِّسُ وَیُصَلِّیْ فِیْمَا بَیْنَ ذٰلِکَ، وَیَقْرَأُ بِسُوْرَۃِ یُوْسُفَ وَیُوْنُسَ، وَقِصَارِ الْمَثَانِیْ وَالْمُفَصَّلِ .وَقَدْ رُوِیَتْ عَنْہُ آثَارٌ مُتَوَاتِرَۃٌ، تَدُلُّ عَلٰی أَنَّہٗ قَدْ کَانَ یَنْصَرِفُ مِنْ صَلَاتِہٖ مُسْفِرًا .
١٠٤٤: خرشہ بن الحر کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب (رض) فجر کو روشن فرماتے اور غلس کرتے اور اس کے مابین پڑھتے آپ کی قراءت سورة یوسف ‘ یونس اور قصار مفصل اور مثانی ہوتی تھیں۔ آپ سے ایسے آثار منقول ہیں جو اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ آپ سپیدے میں مسجد سے لوٹتے۔
تخریج : مصنف ابن ابی شیبہ کتاب الصلاۃ ١؍٣٢٢۔
آپ کے متعلق متواتر روایات سے وارد ہے کہ آپ جب نماز سے فارغ ہوتے تو خوب چاندنا ہوتا چند روایات یہاں ذکر کی جائیں گی۔
اصطلاحات قرآنی :
سبع طوال ابتدائی سات بڑی سورتوں کو کہا جاتا ہے مئین مائۃ کی جمع ہے یہ سو یا اس سے زائد آیات والی گیارہ سورتوں کو کہا جاتا ہے المثانی ان کے بعد بیس سورتوں کو مثانی کہا جاتا ہے یہ سورة حجرات تک کل اڑتیس سورتیں ہوئیں۔
مفصلات : حجرات سے آخر قرآن تک سورتوں کو مفصلات سے تعبیر کرتے ہیں۔
! حجرات سے بروج ۔ " اوساط مفصل بروج سے لم یکن تک ۔# قصار مفصل لم یکن سے قصار مفصل کہلاتی ہیں۔