۱۰۸۰ : وَحَدَّثَنَا ابْنُ خُزَیْمَۃَ قَالَ : أَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ رَجَائٍ قَالَ : أَنَا زَائِدَۃُ عَنْ سُلَیْمَانَ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُرَّۃَ، عَنْ مَسْرُوْقٍ قَالَ : صَلَّیْت خَلْفَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدِ ڑالظُّہْرَ حِیْنَ زَالَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ : ھٰذَا- وَالَّذِیْ لَا إِلٰـہَ إِلَّا ہُوَ - وَقْتُ ھٰذِہِ الصَّلَاۃِ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی ھٰذَا، فَاسْتَحَبُّوْا تَعْجِیْلَ الظُّہْرِ فِی الزَّمَانِ کُلِّہٖ، فِیْ أَوَّلِ وَقْتِہَا، وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِمَا ذَکَرْنَا .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ، فَقَالُوْا : أَمَّا فِیْ أَیَّامِ الشِّتَائِ، فَیُعَجَّلُ بِہَا کَمَا ذَکَرْتُمْ، وَأَمَّا فِیْ أَیَّامِ الصَّیْفِ، فَتُؤَخَّرُ، حَتّٰی یُبْرِدَ بِہَا .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِمَا۔
١٠٨٠: مسروق کہتے ہیں کہ میں نے ابن مسعود (رض) کے پیچھے نماز ظہر ادا کی جب کہ سورج ڈھل گیا پھر ابن مسعود فرمانے لگے قسم اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں یہی اس نماز کا وقت ہے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ بعض علماء کے ہاں تمام اوقات میں ظہر کا اوّل وقت میں جلد ادا کرنا مستحب ہے اور انھوں نے ان روایات سے استدلال کیا۔ دیگر علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا سردی میں جلدی ادا کیا جائے جیسا تم نے کہا اور گرمیوں میں ٹھنڈک تک نماز کو مؤخر کیا جائے ‘ ان کی دلیل یہ روایات ہیں۔
تخریج : ابن ابی شیبہ ١؍٢٨٥۔
حاصل روایات : ان تمام روایات سے تعجیل ظہر پر روشنی پڑتی ہے جس سے معلوم ہوا کہ گرمی و سردی ہر دو موسم میں اس میں جلدی کرنا افضل ہے۔
مؤقف ِثانی اور مستدل روایات :
سردی کے ایام میں تو جلدی کی جائے جیسا مؤقف اول میں کہا گیا مگر گرمی میں ظہر کو ٹھنڈا کر کے پڑھا جائے۔