۱۰۸۱ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ، قَالَ ثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیْرٍ، قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ مُہَاجِرِ أَبِی الْحَسَنِ، عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ، عَنْ أَبِیْ ذَرٍّ قَالَ : (کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ مَنْزِلٍ، فَأَذَّنَ بِلَالٌ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَہْ یَا بِلَالُ ثُمَّ أَرَادَ أَنْ یُؤَذِّنَ فَقَالَ : مَہْ یَا بِلَالُ، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ یُؤَذِّنَ فَقَالَ مَہْ یَا بِلَالُ .حَتَّی رَأَیْنَا فَیْئَ التُّلُوْلِ، ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِنَّ شِدَّۃَ الْحَرِّ مِنْ فَیْحِ جَہَنَّمَ، فَأَبْرِدُوْا بِالصَّلَاۃِ اِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ) .
١٠٨١: زید بن وہب نے ابو ذر (رض) سے نقل کیا کہ ہم جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک پڑاؤ میں تھے بلال (رض) نے اذان دینے لگے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا رک ‘ رک۔ پھر کچھ وقت بعد انھوں نے اذان کا دوبارہ ارادہ کیا تو آپ نے فرمایا اے بلال ٹھہرو۔ پھر اذان کا ارادہ کیا تو آپ نے فرمایا اے بلال رک جاؤ۔ اس وقت تک آپ رکے رہے یہاں تک کہ ٹیلوں کا سایہ بھی نظر آنے لگا پھر آپ نے فرمایا بیشک گرمی کی شدت جہنم کی بھڑک اور جوش سے ہے پس جب گرمی سخت ہو تو نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھو۔
تخریج : بخاری فی المواقیت باب ٩‘ ١٠‘ الاذان باب ١٨‘ بداء الخلق باب ١٠‘ مسلم فی المساجد نمبر ١٨٠؍١٨١‘ ١٨٣؍١٨٤‘ ١٨٦‘ ابو داؤد فی الصلاۃ باب ٤‘ ترمذی فی المواقیت باب ٥‘ نسائی فی المواقیت باب ٥‘ ابن ماجہ فی الصلاۃ باب ٤‘ والطبّ باب ١٩‘ دارمی فی الصلاۃ باب ١٤‘ مالک فی الوقوت نمبر ٢٧؍٢٨‘ ٢٩‘ مسند احمد ٢؍٢٢٩‘ ٢٨٥‘ ٣١٨‘ ٥٠١‘ ٣؍٩‘ ٥٣‘ ٣٩‘ ٤؍٢٥٠‘ ٦٦٢‘ ٥؍١٥٥۔
اللغات : التلول جمع تل۔ ٹیلے۔ فیح۔ حرارت و جوش۔