hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 1093

.

الطحاوي

1093
Al Tahawi
۱۰۹۳ : وَعَنْ أَبِیْ زُرْعَۃَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ قَیْسٍ، عَنْ أَبِیْ مُوْسٰی یَرْفَعُہُ قَالَ : (أَبْرِدُوْا بِالظُّہْرِ فَإِنَّ الَّذِیْ تَجِدُوْنَ مِنَ الْحَرِّ، مِنْ فَیْحٍ مِنْ جَہَنَّمَ) .فَفِیْ ھٰذِہِ الْآثَارِ الْأَمْرُ بِالْاِبْرَادِ بِالظُّہْرِ مِنْ شِدَّۃِ الْحَرِّ، وَذٰلِکَ لَا یَکُوْنُ إِلَّا فِی الصَّیْفِ فَقَدْ خَالَفَ ذٰلِکَ، مَا رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ تَعْجِیْلِ الظُّہْرِ فِی الْحَرِّ عَلٰی مَا ذَکَرْنَا مِنَ الْآثَارِ الْأُوَلِ .فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ، فَمَا دَلَّ أَنَّ أَحَدَ الْأَمْرَیْنِ أَوْلٰی مِنَ الْآخِرِ .قِیْلَ لَہٗ : لِأَنَّہٗ قَدْ رُوِیَ أَنَّ تَعْجِیْلَ الظُّہْرِ فِی الْحَرِّ، قَدْ کَانَ یُفْعَلُ ثُمَّ نُسِخَ .
١٠٩٣: ثابت بن قیس نے ابو موسیٰ اشعری (رض) سے انھوں نے مرفوع نقل کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا فرمان گرامی ظہر کو ٹھنڈا کر کے پڑھو جو حرارت تم پا رہے ہو وہ جہنم کی بھڑک سے ہے۔ ان آثار میں ظہر کو سخت حرارت کی وجہ سے ٹھنڈا کرنے کا حکم دیا ‘ یہ حکم صرف گرمیوں میں ہے۔ ہم نے پہلے جو آثار نقل کئے ہیں جن میں ظہر کو جلدی پڑھنے کا حکم ہے وہ اس کے خلاف ہیں اب کوئی شخص یہ کہے کہ یہاں تو دونوں میں سے کسی کے دوسرے سے افضل ہونے کی کوئی دلالت نہیں تو ہم عرض کریں گے پہلے ظہر کو جلدی پڑھنے والے حکم پر عمل رہا پھر منسوخ ہوگیا جیسا یہ روایت اس پر دلالت کر رہی ہے۔
حاصل روایات : ان تمام روایات سے جو مختلف صحابہ سے مروی ہیں ظہر کو ٹھنڈا کر کے پڑھنے کا حکم موجود ہے اس حکم کی تاکید سے ٹھنڈا کر کے پڑھنے کی فضیلت ظاہر ہے یہ روایات پہلی روایات کے خلاف گرمیوں میں تبرید ظہر کو ثابت کرتی ہیں ان روایات میں گرمی و سردی کا تذکرہ نہیں ہے تطبیق کے لیے ان کو سردی پر محمول کرنا مناسب ہے (واللہ اعلم)
ایک اہم اشکال :
پہلی روایات اور ان روایات میں کوئی روایت ایسی نہیں جس سے ایک دوسری پر فضیلت ظاہر ہوتی ہو۔
الجواب : یہ روایات میں موجود ہے کہ پہلے آپ ظہر میں جلدی فرماتے تھے پھر یہ حکم منسوخ ہوگیا اس کی تائید کے لیے مغیرہ بن شعبہ (رض) کی روایت ملاحظہ ہو۔