hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 1094

.

الطحاوي

1094
Al Tahawi
۱۰۹۴ : حَدَّثَنَا اِبْرَاہِیْمُ بْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ، قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ مَعِیْنٍ، وَتَمِیمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ قَالَا : ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ یُوْسُفَ قَالَ : ثَنَا شَرِیْکٌ، عَنْ بَیَانٍ، عَنْ قَیْسِ بْنِ أَبِیْ حَازِمٍ، عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ قَالَ (: صَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الظُّہْرَ بِالْہَجِیْرِ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ شِدَّۃَ الْحَرِّ مِنْ فَیْحِ جَہَنَّمَ، فَأَبْرِدُوْا بِالصَّلَاۃِ) فَأَخْبَرَ الْمُغِیْرَۃُ فِیْ حَدِیْثِہٖ ھٰذَا أَنْ أَمْرَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالْاِبْرَادِ بِالظُّہْرِ، بَعْدَ أَنْ کَانَ یُصَلِّیْہَا فِی الْحَرِّ .فَثَبَتَ بِذٰلِکَ، نَسْخُ تَعْجِیْلِ الظُّہْرِ فِیْ شِدَّۃِ الْحَرِّ، وَوَجَبَ اسْتِعْمَالُ الْاِبْرَادِ فِیْ شِدَّۃِ الْحَرِّ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، وَأَبِیْ مَسْعُوْدٍ، (أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یُعَجِّلُہَا فِی الشِّتَائِ، وَیُؤَخِّرُہَا فِی الصَّیْفِ) .
١٠٩٤: قیس بن ابی حازم نے مغیرہ بن شعبہ (رض) سے روایت کی ہے کہ ہمیں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر کی نماز دوپہر کی گرمی میں پڑھائی پھر فرمایا بیشک گرمی کی شدت یہ جہنم کے ابال سے ہے پس تم نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھا کرو۔ حضرت مغیرہ (رض) نے اپنے اثر میں بتلایا کہ آپ پہلے سخت گرمی میں پڑھتے تھے پھر آپ نے ٹھنڈا کر کے پڑھنے کا حکم فرمایا۔ اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ ظہر میں جلدی کرنے والا عمل منسوخ ہوچکا اور شدید گرمی کے وقت میں اسے ٹھنڈا کر کے پڑھنا لازم ہوگیا اور حضرت انس اور ابن مسعود (رض) سے روایات وارد ہیں کہ آپ اس نماز کو سردیوں میں جلدی ادا فرما لیتے اور گرمیوں میں اس میں تاخیر فرماتے۔
تخریج : ابن ماجہ فی الصلاۃ باب ٤‘ نمبر ٦٨٠۔
حاصل روایات : اس روایت میں حضرت مغیرہ (رض) نے خبر دی کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابراد ظہر کا حکم فرمایا اس کے بعد کہ آپ اسے گرمی کی شدت میں پڑھا کرتے تھے اس سے ثابت ہوا کہ تعجیل ظہر والا حکم منسوخ ہوگیا اور گرمی میں ضروری ہے کہ ابراد کو اختیار کیا جائے۔
تائیدی روایات :
اس کی تائید کے لیے حضرت انس بن مالک اور حضرت ابن مسعود (رض) کی روایت پیش کی جاتی ہے۔