۱۰۹۷ : حَدَّثَنَا اِبْرَاہِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا بِشْرُ بْنُ ثَابِتٍ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ خَالِدَۃَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ : (کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا کَانَ الشِّتَائُ، بَکَّرَ بِالظُّہْرِ، وَإِذَا کَانَ الصَّیْفُ أَبْرَدَ بِہَا) .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَھٰکَذَا السُّنَّۃُ عِنْدَنَا، فِیْ صَلَاۃِ الظُّہْرِ، عَلٰی مَا یَذْکُرُ أَبُوْ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ وَأَنَسٌ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ مِنْ صَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .وَلَیْسَ فِیْمَا قَدَّمْنَا ذِکْرَہُ فِی الْفَصْلِ الْأَوَّلِ مَا یَجِبُ بِہٖ خِلَافُ شَیْئٍ مِنْ ھٰذَا ؛ لِأَنَّ حَدِیْثَ أُسَامَۃَ، وَعَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا، وَخَبَّابٍ، وَأَبِیْ بَرْزَۃَ، کُلُّہَا عِنْدَنَا، مَنْسُوْخَۃٌ بِحَدِیْثِ الْمُغِیْرَۃِ الَّذِیْ رَوَیْنَاہُ فِی الْفَصْلِ الْآخِرِ .وَأَمَّا حَدِیْثُ ابْنِ مَسْعُوْدٍ فِیْ صَلَاۃِ الظُّہْرِ، حِیْنَ زَالَتِ الشَّمْسُ وَحَلِفُہُ أَنَّ ذٰلِکَ وَقْتَہَا، فَلَیْسَ فِیْ ذٰلِکَ الْحَدِیْثِ أَنَّ ذٰلِکَ کَانَ مِنْہُ فِی الصَّیْفِ، وَلَا أَنَّہٗ کَانَ مِنْہُ فِی الشِّتَائِ، وَلَا دَلَالَۃَ فِیْ ذٰلِکَ عَلٰی خِلَافِ غَیْرِہٖ .وَھٰذَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَدْ رَوٰی عَنْہُ الزُّہْرِیُّ، (أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلَّی الظُّہْرَ حِیْنَ زَالَتِ الشَّمْسُ) ، ثُمَّ جَائَ أَبُوْ خَالِدَۃَ فَفَسَّرَ عَنْہُ أَنَّہٗ کَانَ یُصَلِّیْہَا فِی الشِّتَائِ، مُعَجِّلًا، وَفِی الصَّیْفِ مُؤَخِّرًا، فَاحْتَمَلَ أَنْ یَکُوْنَ مَا رَوٰی ابْنُ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، ہُوَ کَذٰلِکَ أَیْضًا .فَإِنِ احْتَجَّ مُحْتَجٌّ فِیْ تَعْجِیْلِ الظُّہْرِ۔
١٠٩٧: ابو خالد نے حضرت انس (رض) سے نقل کیا وہ کہتے ہیں کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب سردی کا موسم ہوتا تو نماز ظہر کو جلد ادا فرماتے اور جب گرمی ہوتی تو نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھتے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں ہمارے ہاں یہی سنت ہے جس کو حضرت انس اور ابی مسعود (رض) نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کیا ہے اور فصل اوّل میں مذکور روایات میں کوئی ایسی چیز نہیں جس سے اس کی مخالفت لازم ہوتی۔ البتہ ہمارے ہاں حضرت عائشہ صدیقہ ‘ خباب ‘ ابوبرزہ ‘ اسامہ (رض) کی تمام روایات منسوخ ہیں اور دوسری فصل میں ہم نے حضرت مغیرہ (رض) کی روایت نقل کی ہے وہ ان کی ناسخ ہے اور ابن مسعود (رض) کی روایت جو ظہر کے سلسلہ میں وارد ہے اور اس میں ان کی قسم مذکور ہے وہ گرمیوں سے متعلق ہے۔ موسم سرما سے اس کا تعلق نہیں۔ اس میں اس کے خلاف کسی کو دلالت بھی نہیں ملتی۔ یہ حضرت انس (رض) ہیں جن سے زہری نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ عمل نقل کیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر کی نماز اس وقت ادا فرمائی جب سورج ڈھل گیا۔ پھر ابو خالدہ راوی نے اس کی تفسیر زہری سے یہ نقل کی کہ اس سے سردیوں کی ظہر مراد ہے۔ گرمیوں کی ظہر دیر سے ادا کی جاتی تھی۔ پس اس سے ابن مسعود (رض) والی روایت میں میں بھی احتمال پیدا ہو یا کہ ممکن ہے اس کا مطلب بھی یہی ہو۔ پھر اگر کوئی اس روایت کو ظہر جلدی پڑھنے میں بطور حجت پیش کرے۔
تخریج : نسائی فی المواقیت باب ٤۔
امام طحاوی (رح) کہتے ہیں ہمارے ہاں ظہر میں سنت یہ ہے جیسا کہ ابو مسعود (رض) اور انس (رض) نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز کا تذکرہ کیا ہے رہی فصل اول کی روایت تو وہ اس کے مخالف نہیں کیونکہ حدیث اسامہ ‘ عائشہ ‘ خباب ‘ ابی برزہ (رض) کی روایات تمام ہمارے ہاں روایت مغیرہ بن شعبہ (رض) سے منسوخ ہیں۔
ایک اہم اشکال :
البتہ ایک سوال ضرور باقی رہ جاتا ہے کہ روایت ابن مسعود (رض) میں صلوۃ ظہر کا تذکرہ زوال کے جلدی بعد کا ہے۔ اور پھر انھوں نے حلف اٹھا کر یہ بات کہی کہ یہی اس نماز کا وقت ہے اور پھر اس روایت میں گرمی و سردی کسی وقت کی تعیین نہیں اور اس میں اس کے خلاف پر کوئی دلالت بھی نہیں پائی جاتی۔
الجواب : یہ بات بالکل درست ہے کہ روایت ابن مسعود (رض) میں تو اس کی دلالت نہیں مگر فصل اول میں ہم نے انس (رض) کی روایت نقل کی ہے جس میں تعجیل ظہر کا تذکرہ ہے اور حضرت انس (رض) کی دوسری روایت جس کو زہری نے نقل کیا ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر کی نماز زوال کے وقت پڑھائی پھر ابو خالدہ (رض) آئے اور انھوں نے اس کی تفسیر بیان کی جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو سردی میں پڑھا کرتے تھے اور گرمیوں میں تاخیر سے ادا فرماتے پس اس کے مطابق ابن مسعود (رض) کی روایت کا مطلب بھی یہی لیا جائے گا کہ اس روایت میں سردی کی نماز ظہر کا تذکرہ ہے۔